اسلام آباد (اے بی این نیوز) کسی بھی ملک سے ڈی پورٹ ہونے والے افراد کو پاسپورٹ کی رکاوٹوں سمیت کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟
جن لوگوں کو بیرون ملک سے ڈی پورٹ کیا گیا ہے یا غیر قانونی طور پر کسی دوسرے ملک میں داخل ہوئے ہیں ان کے لیے مستقبل میں پاکستانی پاسپورٹ حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ پاسپورٹ رولز 2021 کے تحت حکام کو ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق اگر کسی شخص کو ویزہ کی خلاف ورزی، غیر قانونی داخلے یا کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے پر کسی بھی ملک سے ڈی پورٹ کیا گیا ہو تو متعلقہ حکام اسے نیا پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ یہ قدم قومی سلامتی، قانونی تقاضوں اور مفاد عامہ کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
حکام کے مطابق انسانی سمگلنگ یا غیر قانونی نقل و حرکت میں ملوث افراد یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے مشکوک سمجھے جانے والے شہری بھی پاسپورٹ کے اجراء کے لیے نااہل ہو سکتے ہیں۔
اسی طرح ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل افراد، عدالتی پابندیوں کا سامنا کرنے والے شہری یا بین الاقوامی اداروں کو مطلوب افراد بھی پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے نااہل ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ پابندیاں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) کے ذریعے لاگو ہوتی ہیں، جس کے تحت مخصوص مدت کے لیے مختلف کیٹیگریز کے افراد کے سفر پر پابندی عائد ہوتی ہے، جب کہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
بعض صورتوں میں، پہلے سے جاری کردہ پاسپورٹ بھی غیر فعال کر دیے جاتے ہیں تاکہ متعلقہ شخص مزید سفر نہ کر سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن افراد کو ملک بدر کر کے واپس لایا گیا ہے یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے انہیں پاکستان واپسی پر اپنی قانونی حیثیت کو درست کرنا چاہیے اور نئے پاسپورٹ کے لیے درخواست دینے سے پہلے متعلقہ حکام سے تصدیق کرنی چاہیے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص سفری پابندی کا شکار ہو تو وہ قانونی ذرائع سے بھی اپیل دائر کر سکتا ہے، جب کہ مستقبل کی مشکلات سے بچنے کے لیے بیرون ملک زیر التواء قانونی یا انتظامی معاملات کو سفارتی اور سرکاری ذرائع سے حل کرنے کی کوشش ضروری ہے۔

مزید پڑھیں:ایران سے بڑی خبر سامنے آگئی، جانیے تفصیلات















