اسلام آباد ( زمان مغل )اسلام آباد میں اپنے طرز کے ایک بڑے مالیاتی سکینڈل کا انکشاف، ذرائع کے مطابق 12 ارب روپے سے زائد رقم مبینہ طور پر پٹرول انویسٹمنٹ نیٹ ورک میں لگائی گئی۔ سرکاری افسران بھی مبینہ طور پر اس دھندے میں شامل ہو گئے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ کے گریڈ 18 سے اوپر کے بعض افسران کے نام سامنے آنے لگے۔ پٹرول قیمتوں میں اضافے سے منافع کمانے کے نام پر سرمایہ کاری اسکیم چلائی جاتی رہی۔سرمایہ کاروں کو بتایا جاتا تھا کہ پٹرول ذخیرہ کر کے بھاری منافع کمایا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں اربوں روپے کے مالیاتی سکینڈل کا انکشاف،اہم شخصیات شامل،نام سامنے آگئے
ہر پندرہ دن بعد پٹرول قیمتوں میں تبدیلی کو سرمایہ کاری کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ افسران نے مبینہ طور پر فرنٹ مینوں کے ذریعے سرمایہ کاری کر رکھی تھی۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے متعدد بڑے پٹرول پمپس اس نیٹ ورک کا حصہ بتائے جا رہے ہیں۔
کئی پٹرول پمپس حساس، پوش اور وی آئی پی علاقوں کے قریب واقع تھے۔ اس پورے نیٹ ورک کے مرکزی کردار کے طور پر عادل اکرام کا نام سامنے آیا ہے۔ عادل اکرام کے خلاف اسلام آباد اور دیگر شہروں میں متعدد مقدمات درج ہو چکے ہیں۔
وجے نے عوام سے وقت مانگ لیا،وائٹ پیپر جاری کر نے کا اعلان،جا نئے مزید عوامی فیصلوں بارے
مارگلہ، کوہسار، رمنا اور ہری پور سمیت مختلف تھانوں میں کیسز زیر تفتیش ہیں۔ محمد سلمان نے 61 کروڑ روپے مالیت کا مقدمہ درج کروایا۔ مبشر احمد نے 16 کروڑ 80 لاکھ روپے کے چیک ڈس آنر کا کیس درج کروایا۔ عمر خان نے 10 کروڑ 70 لاکھ روپے مالیت کا مقدمہ درج کروایا۔
ابتدا میں سرمایہ کاروں کو باقاعدگی سے بھاری منافع دیا جاتا رہا۔ بعد ازاں اچانک ادائیگیاں رک گئیں اور اربوں روپے پھنسنے کا انکشاف ہوا۔ ذرائع کے مطابق سرمایہ کار لانے کے لیے اسلام آباد کے ایک جم کا مینیجر بھی سرگرم رہا۔
جم مینیجر مبینہ طور پر اپنے کلائنٹس کو اس سرمایہ کاری پر آمادہ کرتا اور فوائد بتاتا رہا۔ اسی جم مینیجر نے بعد میں عادل اکرام کے خلاف اک با اثر افسر کی ایما پر ایف آئی آر بھی کٹوائی ۔ پٹرول پمپس کے نام پر 20 سے زائد کمپنیوں کے استعمال کا انکشاف بھی ہوا۔ مختلف کمپنیوں کے ذریعے رقوم کو منتقل اور چھپانے کا مبینہ نظام استعمال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اس سکینڈل میں لگنے والی زیادہ تر رقم سرکاری افسران کی بتائی جا رہی ہے۔ کئی افسران نے مبینہ طور پر اپنی اصل شناخت چھپانے کے لیے فرنٹ مین استعمال کیے۔ سرمایہ کاری میں استعمال ہونے والی رقوم کے ذرائع پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض بااثر افراد متاثرین کو نام سامنے نہ لانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ کئی متاثرین کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ افسران کے نام منظر عام پر نہ آئیں۔ گلبرگ کے ایک فارم ہاؤس کی مشکوک ٹرانسفر بھی تحقیقات کا حصہ بن گئی۔
ایف سیون کی ایک پراپرٹی مبینہ طور پر بغیر ادائیگی فرنٹ مین کے نام منتقل کی گئی۔ ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں بھی خطیر سرمایہ کاری کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
اسلام آباد بلیو ایریا کے ایک منی چینجر کا نام بھی تحقیقات میں سامنے آ چکا ہے۔ تمام رقوم مبینیہ طور پر سعودیہ عرب اور اسپین منتقل کی جا چکی ہیں ۔ رقوم کی مبینہ بیرون ملک منتقلی اور منی لانڈرنگ کے پہلوؤں پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق عادل اکرام اس وقت گرفتار ہے جبکہ مختلف ادارے مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔















