یروشلم سے سامنے آنے والی اہم پیش رفت کے مطابق اسرائیلی Israel وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکا اور ایرانUS Iran talks کے درمیان جاری مذاکرات کے تناظر میں امریکی حکام سے رابطے تیز کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ رابطے اس لیے کیے جا رہے ہیں تاکہ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات اور اس کے خطے پر اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کوئی حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس میں ایران کو دی جانے والی ممکنہ رعایتیں خطے میں طاقت کا توازن بدل سکتی ہیں۔ خاص طور پر اقتصادی پابندیوں میں نرمی اور دیگر شرائط پر اسرائیل کو شدید تحفظات لاحق ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو مسلسل امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام سے رابطے میں ہیں اور مذاکرات کے ہر مرحلے سے باخبر رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اسے کسی غیر متوقع پیش رفت سے لاعلم نہیں رکھا جائے گا۔
بڑا سفارتی فیصلہ، پشاور قونصل خانہ بند، نئی حکمت عملی سامنے آگئی،جا نئے تفصیل
مزید اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نے امریکی صدر کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ رکھا ہوا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ امریکا اپنی بنیادی شرائط پر قائم ہے، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت مؤقف برقرار رکھا جائے گا۔
اسرائیل کی جانب سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی نیٹ ورک پر سخت پابندیاں شامل کی جائیں، جبکہ اسرائیلی فوج کو اپنے دفاع کے لیے مکمل آزادی حاصل رہے۔
دوسری جانب امریکی قیادت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران معاہدے کو قبول کرتا ہے تو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت کے لیے کھولنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم انکار کی صورت میں سخت اقدامات کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی تجاویز کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور جلد اپنی حتمی رائے سے آگاہ کریں گے، جبکہ اس عمل میں ایک ثالث ملک کے کردار کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دن اس خطے کی سیاست اور عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔















