اہم خبریں

اپ ڈیٹ آگئی،سونا سستا ہو گیا،جا نئے فی تولہ نئی قیمت

24 قیراط فی تولہ سونا 3800 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 79 ہزار 962 روپے کی سطح پر آ گیا ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3257 روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 11 ہزار 490 روپے ریکارڈ کی گئی۔ 22 قیراط 10 گرام سونا بھی 2986 روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 77 ہزار 212 روپے تک پہنچ گیا۔

عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، جہاں فی اونس سونا 38 ڈالر کمی کے بعد 4576 ڈالر پر آ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر غیر یقینی معاشی حالات اور سرمایہ کاری کے بدلتے رجحانات اس کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔

چاندی کی قیمت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں فی تولہ چاندی 100 روپے سستی ہو کر 7914 روپے پر آ گئی ہے۔ قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں یہ اتار چڑھاؤ عام طور پر عالمی مالیاتی پالیسی، افراط زر کے خدشات اور سرمایہ کاروں کے رویے سے جڑا ہوتا ہے۔ 22 قیراط، 21 قیراط اور 18 قیراط سونے کی قیمتیں بھی اسی رجحان کے مطابق نیچے آئی ہیں، جس سے مقامی زیورات کی مارکیٹ میں وقتی طور پر قیمتوں میں نرمی دیکھی جا سکتی ہے۔

تازہ اعداد و شمار کے مطابق اسپاٹ گولڈ gold pricesمیں 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور قیمت تقریباً 4,599 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی فیوچرز بھی کمی کے بعد 4,611 ڈالر کی سطح پر آ گئے۔ سرمایہ کار اس وقت عالمی سیاسی اور معاشی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، خاص طور پر ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ توانائی کے شعبے میں بھی کشیدگی برقرار ہے، جہاں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر موجود ہیں، جس سے عالمی مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں،خوشخبری آگئی، جا نئے کیا

بلند تیل قیمتوں کے باعث مرکزی بینک شرح سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر رکھ سکتے ہیں، جس کا براہ راست اثر سونے جیسے نان ییلڈنگ اثاثوں پر پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار منافع کے متبادل ذرائع کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، جس سے سونے کی طلب میں وقتی کمی دیکھی جا رہی ہے۔دوسری جانب امریکی فیڈرل ریزرو نے گزشتہ ہفتے شرح سود کو برقرار رکھتے ہوئے سخت مؤقف اپنایا ہے، جس کے بعد اس سال شرح سود میں کمی کی توقعات تقریباً ختم ہو گئی ہیں۔ فیڈ حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی، خاص طور پر ایران سے متعلق صورتحال، مہنگائی کے خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

معاشی اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں افراط زر کی شرح میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں کنزیومر پرائس انڈیکس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے، جو عالمی مالیاتی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ دیگر قیمتی دھاتوں جیسے چاندی، پلاٹینم اور پیلیڈیم میں بھی معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں