متحدہ عرب امارات نے آبنائے ہرمز strait of hormuz میں پیش آنے والے ڈرون حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن اور عالمی تجارتی نظام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔ اماراتی حکام کے مطابق یہ حملہ ابوظہبی کی نیشنل آئل کمپنی drone attack سے منسلک ایک بحری جہاز کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس سے بحری سلامتی پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ایران کی جانب سےڈرون حملےکی مذمت کرتےہیں
حکام نے واضح کیا ہے کہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات عالمی بحری راستوں کے لیے خطرناک رجحان پیدا کر رہے ہیں، جس سے توانائی اور تجارت کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
امریکہ شکست تسلیم کرے یا معاہدہ کر ے،ترجمان ایران قومی سلامتی کونسل
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ اور کھلا رکھنا نہایت ضروری ہے تاکہ عالمی تجارت بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔ اماراتی حکام کے مطابق خوش قسمتی سے اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم اسے سنگین نوعیت کا حملہ اور قزاقی کے مترادف عمل قرار دیا گیا ہے۔















