اسلام آباد (رضوان عباسی )صوبوں کے بیرونی قرضوں سے متعلق اہم دستاویزات اے بی این نیوز نے حاصل کر لی ہیں جن میں ملک کے مختلف صوبوں اور خطوں کی مالی صورتحال کی دلچسپ تصویر سامنے آئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق جہاں ایک طرف پنجاب نے رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں بیرونی قرضوں میں کمی کر کے نمایاں کامیابی حاصل کی، وہیں سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے بیرونی قرضوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بیرونی قرضوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق حجم کے اعتبار سے صوبوں میں پنجاب پر بیرونی قرض سب سے زیادہ ہے، تاہم مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران پنجاب کے بیرونی قرض میں 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی۔ اس پیش رفت کو ماہرین مالی نظم و ضبط اور قرضوں کے بہتر انتظام کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
اس کے برعکس اسی مدت کے دوران سندھ کے بیرونی قرض میں 49 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خیبر پختونخوا کے قرض میں 9 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور بلوچستان کے بیرونی قرض میں 40 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر کے بیرونی قرض میں 40 لاکھ ڈالر جبکہ گلگت بلتستان کے بیرونی قرض میں 10 لاکھ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 تک پنجاب پر بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 6 ارب 14 کروڑ 50 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ سندھ کے بیرونی قرض 5 ارب 16 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا پر بیرونی قرضوں کا حجم 2 ارب 86 کروڑ 50 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بلوچستان کے بیرونی قرض 37 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر پر بیرونی قرضوں کا حجم 20 کروڑ 20 لاکھ ڈالر جبکہ گلگت بلتستان پر بیرونی قرض 6 کروڑ 90 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار صوبوں کی مالی حکمت عملی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے حاصل کیے گئے بیرونی وسائل کی عکاسی کرتے ہیں۔















