عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں( oil prices ) میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ( global crude oil prices ) اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) دونوں میں تقریباً 3 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث سامنے آیا ہے۔بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق برینٹ کروڈ کی قیمت 3 ڈالر اضافے کے ساتھ 108.36 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی طرح امریکی ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 2.45 ڈالر اضافے کے بعد 96.85 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔
ایرانی سپریم لیڈر کا پیغام پیوٹن کو پہنچ گیا،روسی صدر نے خوشخبری سنا دی،جا نئے کیا
گزشتہ ہفتے کے دوران بھی تیل کی قیمتوں میں تیز اضافہ دیکھا گیا، جہاں برینٹ کروڈ تقریباً 17 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی 13 فیصد تک بڑھا، جو حالیہ کشیدگی کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں کمی نے عالمی سپلائی کو شدید متاثر کیا ہے۔ اندازوں کے مطابق روزانہ 10 سے 13 ملین بیرل تیل مارکیٹ تک نہیں پہنچ پا رہا، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ دباؤ میں ہے۔
دوسری جانب سرمایہ کاروں کی نظریں ایران کے سفارتی دوروں اور ثالثی کوششوں پر ہیں، تاہم جوہری پروگرام اور بحری راستوں کے تنازعات ابھی تک حل نہیں ہو سکے۔گولڈمین سیکس نے اپنی تازہ رپورٹ میں پیشگوئی کی ہے کہ چوتھی سہ ماہی میں برینٹ کی قیمت 90 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 83 ڈالر فی بیرل رہ سکتی ہے۔















