لندن (اے بی این نیوز) برطانوی حکام اور کابل میں طالبان نمائندوں کے درمیان ممکنہ ملک بدری کے حوالے سے رابطوں کا انکشاف ہوا ہے جس نے انسانی حقوق کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ برطانیہ نے ان افغان شہریوں کو واپس افغانستان بھیجنے کے امکان پر غور شروع کر دیا ہے جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس معاملے پر کابل میں برطانوی حکام اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان ابتدائی رابطے اور بات چیت ہوئی ہے۔
افغان وزارت داخلہ کے ترجمان مفتی عبدالمتین غنی کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت افغان شہریوں کو واپس بھیجے جانے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے اور اس حوالے سے برطانوی حکام سے بات چیت ہوئی ہے۔
دوسری جانب برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے بھی تصدیق کی ہے کہ حکومت ان افغان مہاجرین کی ممکنہ واپسی کے قانونی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 7,330 افغان شہریوں کی پناہ کی درخواستیں مسترد کی گئی تھیں لیکن صرف 135 افراد کو رضاکارانہ یا زبردستی واپس بھیجا جا سکا۔
ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیا ہے کہ خواتین کے حقوق، اظہار رائے کی آزادی اور افغانستان میں سلامتی کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے خدشات کے پیش نظر جبری واپسی ایک متنازعہ اور خطرناک قدم ہو سکتا ہے۔
یہ کیس برطانیہ میں امیگریشن پالیسی اور سرحدی کنٹرول پر جاری سیاسی بحث کا ایک نیا مرکز بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ پاکستان،اہم اعلان سامنے آگیا















