اہم خبریں

بینک آف خیبر میں گورننس بحران؟ میٹنگز ہو رہی ہیں، فیصلے نہیں

بینک آف خیبر کے حالیہ بورڈ اجلاسوں نے ادارے کی گورننس سے متعلق سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے، جہاں مسلسل میٹنگز کے باوجود اہم فیصلے التوا کا شکار دکھائی دے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بینک کے حالیہ بورڈ اجلاس بھی بغیر کسی بڑی منظوری یا پیش رفت کے اختتام پذیر ہوئے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ ادارہ فیصلہ سازی کے بجائے طویل بحث و مباحثے کے دائرے میں پھنس چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر اجلاس پر آنے والے اخراجات، جن میں ڈائریکٹرز کا وقت، انتظامی وسائل اور دیگر لاگت شامل ہیں، کے باوجود عملی نتائج سامنے نہ آنا تشویشناک ہے۔

اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اجلاسوں کے دوران ماحول اکثر سنجیدہ پالیسی ڈسکشن کے بجائے ذاتی نوعیت کی بحث میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے فیصلہ سازی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔ بعض ارکان کے رویے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جن پر اجلاس کے نظم و ضبط کو متاثر کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔

دوسری جانب، حکومت جو کہ بینک کی بڑی شیئر ہولڈر ہے، اس صورتحال میں مؤثر کردار ادا کرتی نظر نہیں آ رہی، جس پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق حکومتی خاموشی ادارے کے گورننس ڈھانچے کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔

مزیدپڑھیں:اسلام آباد: 2 مرد، 1 عورت، 1 بچے کی لاشیں برآمد، سر میں گولیاں ماری گئیں

مزید برآں، بورڈ میں تجربہ کار بینکاروں کی کمی کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پیچیدہ مالی معاملات کو سمجھنے اور مؤثر حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت ناگزیر ہوتی ہے، جس کی کمی سے ادارہ متاثر ہو رہا ہے۔

یہ صورتحال ماضی کے ان ادوار کی یاد دلاتی ہے جب کمزور گورننس کے باعث بینک کی کارکردگی متاثر ہوئی تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اصلاحات نہ کی گئیں تو اہم منصوبے، خصوصاً ڈیجیٹل اقدامات، مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں جبکہ مارکیٹ میں مسابقتی پوزیشن بھی کمزور پڑ سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ بینک اس وقت منافع میں ہے، تاہم مؤثر گورننس کے بغیر اس کارکردگی کو طویل عرصے تک برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں