اہم خبریں

ٹويوٹا نے پالیسی میں عدم استحکام کو آٹو سیکٹر کی سست روی کی بڑی وجہ قرار دے دیا

پاکستان کا آٹو موٹیو شعبہ ساختی چیلنجز کا مسلسل سامنا کر رہا ہے جن میں پالیسی میں عدم تسلسل، کم پیداواری صلاحیت کا استعمال اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر بڑھتا ہوا انحصار شامل ہے، ان رکاوٹوں کے باوجود خطے کے ہم عصر ملکوں کے مقابلے میں پاکستانی مارکیٹ نمایاں ترقی کی صلاحیت کی حامل ہے۔ ان امور پر انڈس موٹر کمپنی کی جانب سے منعقدہ ایک حالیہ صنعتی اجلاس میں گفتگو کی گئی جہاں کمپنی قیادت نے میڈیا نمائندگان کو مارکیٹ رجحانات اور پالیسی سمت کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اس موقع پر انڈس موٹر کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، علی اصغر جمالی نے پاکستان کی آٹو موٹیو کارکردگی کا علاقائی ممالک سے تقابلی جائزہ پیش کیا۔ جس میں بتایا گیا کہ پاکستان دنیا کے ان 16 ممالک میں شامل ہے جہاں مسافر گاڑیاں، لائٹ کمرشل وہیکلز، ٹرکس اور بسیں تیار کی جاتی ہیں۔ دنیا کے دس بڑے آٹو برانڈز میں سے سات اس وقت پاکستان میں کام کر رہے ہیں، جو اسے عالمی آٹو ساز کمپنیوں کے لیے ایک ممکنہ سرمایہ کاری کی منزل بناتے ہیں۔

ایشیا میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران مارکیٹ رجحانات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے علی اصغر جمالی نے پاکستان کا موازنہ بھارت، فلپائن اور ویتنام سے کیا۔ جہاں بھارت کی آٹو مارکیٹ میں 60 فیصد اضافہ ہوا، فلپائن اور ویتنام میں بالترتیب 71 فیصد اور 180 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی، وہیں پاکستان کی ترقی صرف 15 فیصد تک محدود رہی، جو پالیسی میں عدم تسلسل، استعمال شدہ گاڑیوں کی زیادہ درآمد اور بار بار ریگولیٹری تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

خو شخبری،پٹرولیم مصنوعات سستی

آٹو موٹیو شعبہ اس وقت پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 2.8 فیصد حصہ ڈال رہا ہے اور تقریباً 18 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ 31 عالمی برانڈز کی موجودگی کے باوجود سالانہ 6 لاکھ گاڑیوں کی پیداواری صلاحیت میں سے صرف 30 فیصد استعمال ہو رہا ہے، جبکہ 2017-18 میں یہ شرح 84 فیصد تھی۔ اس کی بڑی وجوہات میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، پالیسی میں بار بار تبدیلیاں اور پیچیدہ ٹیکس نظام شامل ہیں۔

علی اصغر جمالی نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر، وزارت صنعت و پیداوار کے وفاقی سیکریٹری سیف انجم اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حماد علی منصور کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق بیگیج اسکیم کے خاتمے کو اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے مقامی آٹو صنعت کو مضبوط بنانے، مقامی گاڑیوں کی طلب بڑھانے، صنعتی ترقی کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی جبکہ غیر استعمال شدہ پیداواری صلاحیت میں بھی کمی آئے گی۔

زرمبادلہ کے حوالے سے خدشات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مقامی گاڑیوں کی اسمبلنگ کل درآمدات کا صرف 2.08 فیصد حصہ ہے۔ اس کے برعکس مکمل تیار شدہ گاڑیوں (CBU) کی درآمد 2023 میں 0.03 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 0.78 فیصد ہو گئی ہے۔ عالمی سطح پر آٹو موٹیو صنعت کا درآمدی بل میں حصہ امریکہ میں 15.4 فیصد، برطانیہ میں 11.5 فیصد، جرمنی میں 10.2 فیصد، جاپان میں 5.1 فیصد، چین میں 3.2 فیصد اور بھارت میں 3 فیصد ہے۔

علی اصغر جمالی نے 2026 سے 2031 کے لیے ایک مستحکم اور طویل المدتی آٹو موٹیو پالیسی کی ضرورت پر زور دیا جس میں کم سے کم ترامیم ہوں تاکہ مقامی پیداوار کو فروغ ملے اور موجودہ سرمایہ کاری کا تحفظ کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انڈس موٹر کمپنی حکومت پاکستان کی پالیسی کے اعلان کا انتظار کرے گی اور اسی کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹویوٹا نے گزشتہ 35 برسوں کے دوران پاکستان میں 736 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جبکہ آئندہ پانچ برسوں میں مزید 300 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ ہے۔ کمپنی 6.3 ارب ڈالر ٹیکس کی مد میں ادا کر چکی ہے اور مقامی پیداوار کے ذریعے 6.5 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے اخراج کو روکا ہے۔ کمپنی کے ڈیلرشپ اور وینڈر نیٹ ورک سمیت ماحولیاتی نظام کے تحت 55 ہزار سے زائد افراد کو روزگار حاصل ہے۔

انڈس موٹر کمپنی کا پیداواری یونٹ ٹویوٹا کے عالمی معیار کے مطابق کام کر رہا ہے اور جاپان کی ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کی جانب سے ایشیا میں “زیرو ڈیفیکٹ فیسلٹی” کا اعزاز بھی حاصل کر چکا ہے۔

کمپنی ملک کا سب سے بڑا شیٹ میٹل پارٹس پلانٹ اور 6.6 میگاواٹ کی روف ٹاپ سولر پاور سسٹم بھی چلا رہی ہے۔ اس کے سماجی ذمہ داری کے پروگرامز نے گزشتہ مالی سال کے دوران 2 لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچایا، جن میں تعلیم، صحت، ماحولیات، روڈ سیفٹی، کھیل اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے شعبے شامل ہیں۔

اپنے اختتامی کلمات میں علی اصغر جمالی نے کہا کہ پالیسی میں تسلسل، سرمایہ کاری کے لیے سازگار مالیاتی نظام اور مقامی پیداوار پر توجہ آٹو موٹیو شعبے میں صلاحیت کے بہتر استعمال، غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہیں۔

متعلقہ خبریں