اہم خبریں

جنگ بندی ایک وقفہ ہے ، فوجی یونٹوں کو جنگ روکنے اور انتظار کرنے کا حکم دے رہا ہوں ، ایرانی سپریم لیڈ

تہران(اوصاف نیوز)ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکی جنگ بندی معاہدے کے بعد تمام فوجی یونٹوں کو رکنے کا حکم دیا ہے تاہم واضح کیا ہے کہ یہ جنگ کا خاتمہ نہیں بلکہ عارضی توقف ہے۔

سرکاری نشریاتی ادارے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فوجی شاخیں سپریم لیڈر کے حکم پر فوری طور پر جنگ بندی پر عمل درآمد کریں تاہم ملک مکمل چوکس رہے گا۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ جنگ بندی کا مطلب جنگ کا خاتمہ نہیں ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہمارے ہاتھ اب بھی محرک پر ہیں، دشمن کی ذرا سی غلطی کا پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا’۔

ایران نے کہا ہے کہ یہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور ابتدائی طور پر دو ہفتے تک جاری رہیں گے جس میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

ایرانی حکام نے جنگ بندی کو “میدان جنگ میں دشمن کی پسپائی” سے تعبیر کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر مذاکرات سیاسی کامیابی میں بدل گئے تو اسے ایک تاریخی فتح تصور کیا جائے گا، بصورت دیگر جنگ جاری رہے گی۔

ٹرمپ کا بیان

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے اپنے فوجی اہداف حاصل کر لیے ہیں اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدہ قریب ہے، پاکستان کی تجویز پر دو طرفہ جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کی طرف سے دی گئی 10 نکاتی تجویز مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد ہے تاہم جنگ بندی آبنائے ہرمز کو فوری اور محفوظ کھولنے سے مشروط ہے۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف نےپٹرول کی قیمتوں بارے عوام کو بڑی خوشخبری سنا دی !

متعلقہ خبریں