تہران ( اے بی این نیوز )ایران نے امریکا کے ساتھ جاری آخری مذاکرات کو منسوخ کرتے ہوئے پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ اب وہ امن معاہدے یا جنگ بندی کی کوششوں میں حصہ نہیں لے گا۔
یہ بات نیویارک ٹائمز کو تین سینیئر ایرانی حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتائی تاہم ایران یا پاکستان کی جانب سے اس پر تاحال کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ادھر ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہی واحد شخص ہیں جو ایران کے حوالے سے اپنے منصوبوں سے واقف ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم وہ کیا کرنے جا رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ صرف صدر ہی جانتے ہیں کہ معاملات کہاں تک پہنچے ہیں اور وہ کیا کریں گے۔قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر آج رات تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی تو ایرانی تہذیب ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے حوالے سے سخت مؤقف ایک بار پھر سامنے آیا ہے، جہاں امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنی مقررہ ڈیڈلائن پر قائم ہیں اور کسی بھی پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق صدر نے واضح کیا کہ اگر مقررہ وقت تک کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو کارروائی شروع کی جا سکتی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ اگر مذاکرات کے حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے آتی ہے تو صورتحال تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کئی دہائیوں سے جاری مسائل کا خاتمہ اب قریب ہے، جبکہ ان کے بقول اگر ڈیڈلائن پوری نہ کی گئی تو سخت ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ اس بیان کو خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ممکنہ مذاکرات کے امکانات پر واضح جواب دینے سے گریز کیا، جس سے صورتحال مزید غیر یقینی ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں :ایران کی عوام نے اہم پلوں اور بجلی گھروں کے ارد گرد انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا لی،پوری قوم سڑکوں پر نکل آئی















