نیویارک (اے بی این نیوز)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں عاصم افتخار نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تنازعات کا حل صرف مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اجلاس میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور جنگ کے بجائے بات چیت کو ترجیح دیں۔ ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی راستہ ہی واحد مؤثر حل ہے، جبکہ طاقت کے استعمال سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کو جنگ کے ذریعے حل کرنے کے بجائے مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھانا چاہیے، تاکہ خطے کو بڑے بحران سے بچایا جا سکے۔ پاکستان اس حوالے سے مسلسل ایک متوازن اور مثبت کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اجلاس کے دوران آبنائے ہرمز کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی، جسے عالمی توانائی اور تجارت کے لیے نہایت اہم قرار دیا گیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کا کھلا اور محفوظ رہنا نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے، اور اس کے لیے مشترکہ عالمی کوششوں کی ضرورت ہے۔
پاکستانی نمائندے نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی سطح پر فعال کردار ادا کر رہا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی حکمت عملی اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں :عازمینِ حج کے لیے ایک اہم ریلیف،جا نئے کیا















