اہم خبریں

عالمی منڈی کے اثرات ،تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات شدت اختیار کرگئے

اسلام آباد (رضوان عباسی ) خطے میں کشیدہ صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت ہفتہ وار شیڈول کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کل کرے گی، تاہم پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے امکانات موجود ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس مالی گنجائش محدود ہو چکی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں قیمتوں اور علاقائی کشیدگی کے اثرات بھی ملکی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اگر قیمتوں کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کیا گیا تو مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی لیے حکومت مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے تاکہ عوام پر مکمل بوجھ منتقل نہ ہو۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے صوبوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی میں اپنا حصہ ڈالیں۔ اس کے علاوہ پیٹرولیم لیوی میں کمی کرکے بھی قیمتوں کا مکمل بوجھ عوام تک منتقل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔ حکومت عام سبسڈی کے بجائے ٹارگٹڈ سبسڈی دینے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل اور رکشہ استعمال کرنے والے صارفین کو پیٹرول پر خصوصی ریلیف دینے کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق اس وقت وفاقی حکومت پیٹرول پر فی لیٹر ایک سو پانچ روپے سینتیس پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر پچپن روپے چوبیس پیسے لیوی وصول کر رہی ہے۔ حکومت نے گزشتہ تین مرتبہ مسلسل پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھا کر بڑا مالی بوجھ خود برداشت کیا ہے۔
حکام کے مطابق اس وقت وفاقی حکومت ہائی اسپیڈ ڈیزل پر فی لیٹر دو سو تین روپے اٹھاسی پیسے جبکہ پیٹرول پر پچانوے روپے انسٹھ پیسے کا بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کی وجہ سے حکومت پر مجموعی طور پر تقریباً ایک سو انتیس ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑ چکا ہے، جسے ترقیاتی اخراجات میں کمی اور بچتوں کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی ترقیاتی بجٹ میں اب تک تقریباً ایک سو ارب روپے کی کٹوتی بھی کی جا چکی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور یہ فی لیٹر دو سو باون روپے ستاسی پیسے تک مہنگا کیا گیا۔ اسی عرصے میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر تریسٹھ روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ساٹھ روپے سولہ پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو پیٹرول کی قیمت دو سو اٹھاون روپے سترہ پیسے فی لیٹر تھی جو اس وقت بڑھ کر تین سو اکیس روپے سترہ پیسے فی لیٹر ہو چکی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت اٹھائیس فروری کو دو سو پچھتر روپے ستر پیسے فی لیٹر تھی جو اب بڑھ کر تین سو پینتیس روپے چھیاسی پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

اسی دوران مٹی کے تیل کی قیمت بھی نمایاں طور پر بڑھی ہے۔ اٹھائیس فروری دو ہزار چھبیس کو مٹی کے تیل کی قیمت ایک سو اسی روپے ترپن پیسے فی لیٹر تھی جو اب بڑھ کر چار سو تینتیس روپے چالیس پیسے فی لیٹر مقرر ہو چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے مارچ کے دوران پیٹرول پر عائد لیوی میں بھی فی لیٹر تقریباً اکیس روپے اضافہ کیا ہے، جبکہ آئندہ قیمتوں کے تعین میں مالی گنجائش، عالمی منڈی کے رجحانات اور عوامی ریلیف کے پہلوؤں کو مدنظر رکھا جائے گا۔
مزید پڑھیں: عمران خان ودیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کادائرہ کار وسیع

متعلقہ خبریں