لاہور ( اے بی این نیوز )پنجاب حکومت نے اہم پالیسی تبدیلی کرتے ہوئے سرکاری محکموں کیلئے پیٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کا اعلان صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کیا، جسے توانائی بحران اور بڑھتی مہنگائی کے تناظر میں ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق اب تمام سرکاری ادارے صرف ہائبرڈ یا الیکٹرک گاڑیاں خرید سکیں گے، جس کا مقصد ایندھن کے استعمال میں کمی لانا اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف اخراجات کم کرنے بلکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کی کوشش کا حصہ بھی ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی حالات، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی برقرار رہی تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے فیول کے استعمال کو کم کرنے کی کوشش کی، تاہم عوامی سطح پر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں ہر ہفتے 7 سے 10 فیصد تک ایندھن کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے، جو معیشت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت متبادل توانائی اور الیکٹرک وہیکلز کی طرف تیزی سے منتقل ہونے کی حکمت عملی اپنا رہی ہے۔
مزید برآں، پاکستان اپنی تقریباً 81 فیصد پیٹرولیم مصنوعات مشرق وسطیٰ سے درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر مقامی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت کے حالیہ فیصلے کو مستقبل کی توانائی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں :پٹرول بم تیار،اتنا مہنگا ہو نے جا رہا ہے ،سن کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے،جا نئے فی لٹر قیمت















