بلغاریہ ( اے بی این نیوز )2026 کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر میں خوف، تجسس اور افواہوں کا ایک نیا طوفان دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں ہر طرف قیامت، عالمی جنگ اور تباہی کی باتیں ہو رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر میمز سے لے کر سنجیدہ پوسٹس تک، ہر جگہ یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا واقعی یہ سال انسانیت کے خاتمے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے؟ اس بحث کے مرکز میں سب سے نمایاں نام بابا وانگا کا ہے، جنہیں اکثر “بالکان کا ناسٹراڈیمس” کہا جاتا ہے۔
بابا وانگا کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہوں نے 2026 میں کسی بڑے عالمی تصادم یا تباہی کی نشاندہی کی تھی، جسے لوگ آج کے حالات سے جوڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر روس اور یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، اور عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ نے ان خدشات کو مزید ہوا دی ہے۔ اسی طرح چین اور دیگر بڑی طاقتوں کے کردار پر بھی بحث تیز ہو گئی ہے۔ یورپ کی تباہی کے بارے بی پیشین گوئی کی گئی ہے اس بات کا بھی اشارہ دیا گیا کہ موتقبل میں ٹرمپ کیلئے اچھے شگون نہیں ہیں۔
سائبر حملوں اور مصنوعی ذہانت کے خطرات کی پیشگوئیاں کر رہے ہیں۔ کچھ دعوے تو یہاں تک جا پہنچے ہیں کہ خلا سے کسی اجنبی مخلوق کی آمد ممکن ہے یا زمین پر بڑے قدرتی حادثات رونما ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان افواہوں کے تیزی سے پھیلنے کی بڑی وجہ سوشل میڈیا ہے، جہاں خوف اور سنسنی پر مبنی مواد زیادہ تیزی سے وائرل ہوتا ہے۔ جب حقیقی دنیا میں جنگیں، معاشی مسائل اور موسمی تبدیلیاں پہلے ہی لوگوں کو پریشان کر رہی ہوں تو ایسی پیشگوئیاں مزید اثر ڈالتی ہیں۔ لوگ ان کہانیوں کو اس لیے بھی مان لیتے ہیں کیونکہ یہ موجودہ حالات سے کسی نہ کسی حد تک ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں۔
حقیقی تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ 2026 میں چیلنجز ضرور ہو سکتے ہیں، جیسے عالمی کشیدگی، معاشی دباؤ یا موسمی خطرات، لیکن دنیا کے مکمل خاتمے کا کوئی سائنسی یا حقیقی امکان موجود نہیں۔ زیادہ تر ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ محض خوف، غیر یقینی صورتحال اور ڈیجیٹل دور کی تیز رفتار معلومات کا نتیجہ ہے۔
آخرکار، یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ 2026 کا اصل “خطرہ” دنیا کا خاتمہ نہیں بلکہ غلط معلومات اور خوف کا پھیلاؤ ہے، جسے سمجھداری، تحقیق اور حقیقت پسندانہ سوچ کے ذریعے ہی قابو کیا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں :پاکستان اور افغان طالبان میں سفارتی پیش رفت، چین کی ثالثی میں ارومچی مذاکرات سے بریک تھرو کا امکان















