واشنگٹن ( اے بی این نیوز )واشنگٹن میں کابینہ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت بیانات کے ساتھ غیر متوقع اعتراف بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو کمزور سمجھنا بڑی غلطی ہوگی کیونکہ ایرانی قیادت نہ صرف ہوشیار ہے بلکہ غیر معمولی مذاکراتی مہارت بھی رکھتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق 28 فروری سے جاری کشیدگی کے دوران امریکہ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی بحریہ اور فضائیہ کو تقریباً مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جبکہ 90 فیصد کے قریب میزائل لانچرز اور بڑی تعداد میں میزائل بھی تباہ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب معاہدے کے لیے بے حد دباؤ میں ہے۔
امریکی صدر نے ایک جانب ایران کی عسکری کمزوری کا دعویٰ کیا تو دوسری جانب ایرانی قیادت کی مذاکراتی صلاحیتوں کو تسلیم کر کے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں صورتحال نہایت پیچیدہ ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت سفارتی یا عسکری رخ بدل سکتی ہے۔
مزید پڑھیں :ایران ،امریکہ جنگ،روس نے خاموشی توڑ دی،جا نئے کیا اور کتنا سخت کہا















