اسلام آباد ( اےبی این نیوز ) افغان طالبان کو اب دوٹوک فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں یا دہشت گرد گروہوں کی حمایت جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق خطے میں امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہوچکے ہیں اور دوہری پالیسی مزید قابل قبول نہیں رہے گی۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے سرگرم شدت پسند عناصر کی سہولت کاری بند نہ ہوئی تو انسداد دہشت گردی کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی قسم کی مصلحت یا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا اور ریاستی سلامتی اولین ترجیح رہے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی کارروائیاں صرف دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور ان کے سہولت کاروں تک محدود ہیں، جبکہ عام شہریوں یا افغان عوام کو کسی صورت نشانہ نہیں بنایا جارہا۔ حکام نے واضح کیا کہ پاکستان کا افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں اور تمام اقدامات صرف خوارجی عناصر کے خلاف کیے جارہے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران ایک سو اسی سے زائد چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ تیس سے زائد اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کرلیا گیا ہے، جس سے دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
علاقائی صورتحال پر بات کرتے ہوئے حکام نے کہا کہ پاکستان متوازن خارجہ پالیسی پر قائم ہے اور ایک مستحکم ایران کا خواہاں ہے کیونکہ خطے کا امن باہمی استحکام سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع مکمل صلاحیت کے ساتھ کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتا ہے۔
داخلی صورتحال سے متعلق بیان میں کہا گیا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم تشدد، توڑ پھوڑ اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جائے گی۔
بین الاقوامی تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کے عالمی روابط باہمی احترام، اعتماد اور سفارتی توازن پر مبنی ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں :ایران کے خلاف ایک بڑا حملہ بہت جلد ہو نے جا رہا ہے،ٹرمپ















