اہم خبریں

ایران کے خلاف ایک بڑا حملہ بہت جلد ہو نے جا رہا ہے،ٹرمپ

وا شنگٹن ( اےبی این نیوز    )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر “ایپک فیوری” نامی فوجی کارروائی کے تحت ایران میں بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائی خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی اور اس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ابتدائی حملوں کے دوران ایران کے انچاس اعلیٰ سطح کے رہنما مارے گئے، جنہیں امریکا اپنی سلامتی اور اتحادی ممالک کے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران میں فوجی آپریشن ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ مختلف مراحل میں جاری ہے اور اگلے اقدامات پہلے سے زیادہ شدید ہوسکتے ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے خلاف ایک بڑا حملہ بہت جلد متوقع ہے، جبکہ اصل اور فیصلہ کن کارروائی ابھی باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تک ایران کو مکمل طاقت سے نشانہ نہیں بنایا گیا، تاہم آئندہ مرحلہ انتہائی سخت اور ہولناک ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکا ایران کے عوام کے خلاف نہیں بلکہ ان کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی پالیسی کا مقصد خطے میں استحکام قائم کرنا اور ایسے خطرات کو روکنا ہے جو عالمی امن کو متاثر کرسکتے ہیں۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ایران بیلسٹک میزائل اور جوہری ہتھیار تیار کرنے کے منصوبوں پر کام کررہا تھا، جو مشرق وسطیٰ سمیت وسیع خطے کے لیے خطرہ بن سکتے تھے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کو کسی بھی صورت ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اپنے بیان کے دوران انہوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ اگر صورتحال مزید پیچیدہ ہوئی تو زمینی فوج بھیجنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائی کا اگلا مرحلہ فیصلہ کن ثابت ہوگا اور اس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی پڑیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ عالمی برادری ممکنہ ردعمل اور سفارتی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

مزید پڑھیں :اسرائیل کا اگلا ٹارگٹ کون،جا نئے نام سامنے آگیا

متعلقہ خبریں