ایران(اے بی این نیوز)ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت اوور-دی-کاؤنٹر ٹریڈ میں 10 فیصد بڑھ کر تقریباً 80 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جاری رہی تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ خلیج میں تیل کی ترسیل متاثر ہونے سے عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ICIS کے ڈائریکٹر اجے پرمار کے مطابق سب سے بڑا اثر آبنائے ہرمز کی بندش کا ہے۔ تیل کی دنیا کی تقریباً 20 فیصد ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ متعدد ٹینکرز، تیل کی بڑی کمپنیاں اور تجارتی ادارے اس پانی کے راستے سے تیل، ایندھن اور ایل این جی کی ترسیل روک چکے ہیں۔ اگر بندش طویل ہو گئی تو قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے زیادہ بھی جا سکتی ہیں۔
اوپیک پلس نے یکم اپریل سے یومیہ 206,000 بیرل پیداوار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے، جو عالمی مانگ کا صرف 0.2 فیصد ہے۔ تاہم، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے اپنی برآمدات بڑھا دی ہیں تاکہ مارکیٹ میں کچھ استحکام لایا جا سکے۔
متبادل راستے اور عالمی ردعمل
رِسٹڈ انرجی کے ماہر خورخے لیون کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود سعودی عرب اور ابوظہبی کی پائپ لائنز کے ذریعے کچھ تیل کی ترسیل ممکن ہے، مگر مجموعی طور پر 8 سے 10 ملین بیرل یومیہ کی کمی ہوگی۔
ایشیائی ممالک نے بھی اپنے اسٹاک اور متبادل راستوں پر غور شروع کر دیا ہے، اور بھارت روسی تیل پر انحصار بڑھانے پر غور کر رہا ہے تاکہ خلیج سے ممکنہ کمی کو پورا کیا جا سکے۔
آر بی سی کے تجزیہ کار ہیلیما کروفت نے خبردار کیا کہ ایران پر جنگ کی صورت میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ تجزیہ کار اس سے قدرے کم پرامید ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ قیمتیں قریبی مستقبل میں 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہیں گی۔
مزید پڑھیں۔ابوظہبی میں پاکستان شاہینز اور انگلینڈ لائنز کا میچ منسوخ















