اسلام آباد ( اے بی این نیوز )پاور ڈویژن کے ترجمان نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ حالیہ میڈیا رپورٹس میں فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کو وزیرِاعظم کے بجلی ریلیف پیکج سے جوڑ کر غیر ضروری ابہام پیدا کیا گیا، حالانکہ دونوں امور ٹیرف نظام کے الگ الگ حصے ہیں اور ان کا آپس میں براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
ترجمان کے مطابق وزیرِاعظم کی جانب سے صنعتی شعبے کے لیے 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ ریلیف بنیادی ٹیرف کا حصہ ہے اور یہ بدستور مؤثر اور برقرار ہے۔ اس ریلیف میں کسی قسم کی کمی یا واپسی نہیں کی گئی۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹس معمول کے ریگولیٹری میکنزم ہیں، جو مخصوص مدت کے دوران پیداواری لاگت اور نظام کی کارکردگی میں آنے والی حقیقی تبدیلیوں کی بنیاد پر لاگو کیے جاتے ہیں۔ یہ ایڈجسٹمنٹس مثبت یا منفی دونوں ہو سکتی ہیں، جس کا انحصار ایندھن کی عالمی قیمتوں اور بجلی کی پیداوار کے ذرائع پر ہوتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ میں ہونے والا اضافہ یا کمی صرف ماہانہ بنیادوں پر اصل ایندھن لاگت میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، اسے کسی حکومتی ریلیف کے خاتمے سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ اسی طرح سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس تصدیق شدہ لاگت کے فرق کو پورا کرنے کے لیے کی جاتی ہیں اور بعض اوقات یہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے اثرات کو متوازن بھی کر دیتی ہیں۔
بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ وزیرِاعظم کا 4 روپے 4 پیسے فی یونٹ ریلیف بنیادی ٹیرف میں شامل ہے اور مکمل طور پر نافذ العمل ہے، جبکہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس بجلی کے مقررہ ضابطہ جاتی نظام کے تحت علیحدہ اور خودکار طریقہ کار کے مطابق نافذ کی جا رہی ہیں۔
ترجمان نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ حالیہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ سے وزیرِاعظم کے ریلیف پیکج کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ریلیف اپنی جگہ برقرار ہے اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹس صرف حقیقی اخراجات کے مطابق کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں :ملک بھر میں ڈرونز اڑانے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ















