اہم خبریں

ہو شیار ہو جائیں، فراڈ کا نیاسٹائل،AI بایومیٹرک شناختی فراڈ کا انکشاف،بچنے کا طریقہ جا نئے

اسلام آباد ( اے بی این نیوز      )پاکستان میں ایک نیا فراڈ طریقہ سامنے آیا ہے جو عوامی مقامات جیسے مالز، میٹرو اسٹیشنز اور بازاروں میں ہو رہا ہے۔ اس فراڈ میں عموماً درمیانی عمر یا بزرگ افراد اچھے لباس میں ملبوس ہو کر لوگوں سے مدد مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہیں فون استعمال کرنے میں مدد چاہیے، پنشن یا سبسڈی چیک کرنی ہے یا کوئی صفحہ غلطی سے کھل گیا ہے۔

تاہم، یہ کوئی عام فون فراڈ نہیں بلکہAI بایومیٹرک شناختی فراڈ ہے۔ جب آپ مدد کرتے ہیں تو آپ کا فون پہلے سے ویڈیو کال یا اسکرین ریکارڈنگ پر ہوتا ہے اور کوئی آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس دوران آپ کے بایومیٹرک ڈیٹا جیسے فنگر پرنٹ، آواز اور چہرے کی حرکتیں جمع کی جاتی ہیں۔ جدید AI اس ڈیٹا کی بنیاد پر آپ کی ڈیجیٹل نقل بنا سکتا ہے۔

فراڈ کرنے والے آپ کی ڈیجیٹل نقل استعمال کر کے آن لائن قرضے، کنزیومر فنانسنگ اور کریڈٹ کیش آؤٹس کے لیے درخواستیں دے سکتے ہیں اور خودکار طور پر تصدیق کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً صرف 30 منٹ میں آپ اتنے قرضے کے اہل ہوتے ہیں، وہ سب استعمال ہو جاتے ہیں اور آپ قرض میں ڈوب جاتے ہیں، ممکن ہے لاکھوں یا کروڑوں روپے تک کا نقصان ہو جائے۔

یہ تین اصول یاد رکھیں:

اجنبیوں کے فون کبھی نہ چلائیں۔ نہ چھوئیں، نہ کلک کریں، نہ دیکھیں، نہ اونچی آواز میں کچھ پڑھیں۔
امعلوم ویڈیو کال فوراً منقطع کریں۔
کیمرے کی طرف دیکھنے یا بولنے کی کسی درخواست پر عمل نہ کریں۔

یہ فراڈ مہربانی اور اعتماد کا فائدہ اٹھاتا ہے، اس لیے بزرگوں، بچوں اور دوستوں کے ساتھ یہ معلومات ضرور شیئر کریں تاکہ ممکنہ متاثرہ افراد کی تعداد کم ہو۔
مزید پڑھیں :علامہ راجہ ناصر عباس کی اہم ترین پیشکش،بال حکومت کے کورٹ میں ڈال دی،جا نئے بریکنگ نیوز

متعلقہ خبریں