اسلام آباد(رضوان عباسی ) حکومت نے واضح کیا ہے کہ ٹیکس شارٹ فال کے باوجود فی الحال منی بجٹ کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق اگر ٹیکس ہدف میں کمی پر آئی ایم ایف کی جانب سے دباؤ آیا تو حتمی فیصلہ آئندہ جائزہ مذاکرات کے بعد کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں ایف بی آر کو 330 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا سامنا رہا۔ اس کے باوجود حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کے بروقت تعین کا عمل جاری رکھا جائے گا۔ بجلی کے ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس کے ساتھ بنیادی ٹیرف کا تعین بھی مقررہ شیڈول کے مطابق کیا جا رہا ہے، جبکہ گیس قیمتوں کا تعین بھی مقررہ وقت پر ہوگا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔ وفد پہلے کراچی میں سٹیٹ بینک آف پاکستان سے مذاکرات کرے گا، جبکہ باضابطہ مذاکرات 2 مارچ سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے۔ مذاکرات بیک وقت 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ فیسلیٹی (EFF) اور ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے کلائمٹ فنانسنگ پروگرام کے تحت ہوں گے۔
حکام کے مطابق توسیعی فنڈ فیسلیٹی پروگرام کے تحت تیسرے جائزے جبکہ کلائمٹ فنانسنگ پروگرام کے دوسرے جائزے پر بات چیت ہوگی۔ مذاکرات میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ کامیاب مذاکرات کی صورت میں پاکستان کو دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کی اگلی اقساط ملنے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اب تک پاکستان کو دونوں پروگراموں کے تحت آئی ایم ایف سے 3 ارب 30 کروڑ ڈالر موصول ہو چکے ہیں، اور اس وقت پاکستان بیک وقت آئی ایم ایف کے دو قرض پروگراموں میں شامل ہے۔
مزید پڑھیں : افغانستان میں طالبان حکومت کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، دی ڈپلو میٹ















