اسلام آباد (اے بی این نیوز) سیلاب کے بعد گندم کی فی من قیمت 5000 روپے ہو سکتی ہے، کسان اتحاد نے خبردار کیا ہے۔چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باتھ نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے باعث گندم کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور فی من قیمت 4 ہزار سے 5 ہزار روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق سیلاب سے پہلے گندم 3200 روپے فی من فروخت ہوتی تھی لیکن موجودہ آفات کے بعد یہ قیمت عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو جائے گی۔
خالد حسین باتھ نے کہا کہ سیلاب سے کاشتکاری کو شدید نقصان پہنچا ہے، کپاس کی پیداوار میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے، جبکہ بہاولنگر کے 100 کلومیٹر کے علاقے میں کپاس مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں کو اعتماد میں لے کر فوری طور پر ڈیمز بنائے جائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کی آفات سے بچا جا سکے۔
چیئرمین کسان اتحاد نے کہا کہ صرف چشتیاں سے 6 سے 7 افراد لاپتہ ہیں، ہر طرف تباہی اور نقصان ہے، مویشی بہہ گئے اور بہت زیادہ جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار جتنی تباہی ہوئی ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔
دوسری جانب پنجاب کے کئی اضلاع اب بھی اونچے درجے کے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں۔ دریائے راوی، چناب اور ستلج سے آنے والی سیلابی لہروں سے درجنوں دیہات اور بستیاں زیرآب آگئیں جب کہ متعدد شہر بھی زیرآب آگئے۔
محکمہ ریلیف کے مطابق صوبے کی تاریخ کے بدترین سیلاب سے اب تک 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ گوجرانوالہ ڈویژن سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں 15 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ کمشنر گوجرانوالہ کے مطابق سمبڑیال میں ایک ہی خاندان کے 5، گجرات میں 4، نارووال میں 3، حافظ آباد میں 2 اور گوجرانوالہ میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا ہے۔
مزید پڑھیں :پشاور سے المناک خبر آگئی، جا نئے کتنا جانی نقصان ہوا