اہم خبریں

پاکستان میں مڈوائف کی کمی سنگین چیلنج، ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی جانیں خطرے میں

اسلام آباد(اے بی این نیوز)پانچ مئی کو منائے جانے والے عالمی یومِ مڈوائف کے موقع پر اقوام متحدہ آبادی فنڈ کے نمائندہ ڈاکٹر لوئے شبانے نے کہا ہے کہ پاکستان میں مڈوائفری پر سرمایہ کاری صحت اور ترقی کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مڈوائف ماؤں اور نوزائیدہ بچوں کی زندگی بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں اور خاص طور پر دیہی و پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات کا پہلا اور قابلِ اعتماد ذریعہ ہوتی ہیں۔ وہ حمل، زچگی اور بعد از پیدائش خواتین کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ پیچیدگیوں کی بروقت نشاندہی اور ہسپتال منتقلی کو یقینی بناتی ہیں۔

ڈاکٹر شبانے کے مطابق پاکستان میں ماؤں کی اموات کی شرح تشویشناک ہے، جہاں ہر ایک لاکھ پیدائش پر 150 سے زائد خواتین جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جبکہ ملک کو تقریباً 82 ہزار مڈوائف کی کمی کا سامنا ہے۔ ہر 10 ہزار افراد کے لیے صرف 2.2 مڈوائف دستیاب ہیں جو عالمی معیار سے کہیں کم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مناسب تربیت، سہولیات اور نظامِ صحت میں مؤثر شمولیت کے ذریعے مڈوائف ماں اور بچے کی صحت کے زیادہ تر مسائل کا حل فراہم کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، مڈوائفری میں سرمایہ کاری نہ صرف انسانی جانیں بچاتی ہے بلکہ صحت کے اخراجات میں کمی اور معاشی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں مڈوائفری تعلیم کو فروغ دیا جائے، بی ایس مڈوائفری پروگرام کو وسعت دی جائے، اور مڈوائف کو بہتر تنخواہیں، قانونی تحفظ اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی خاتون کو زچگی کے دوران اپنی جان نہیں گنوانی چاہیے، اور معیاری مڈوائفری سہولیات تک رسائی ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اقوام متحدہ آبادی فنڈ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر اس شعبے کی بہتری کے لیے اپنا تعاون جاری رکھے گا۔
مزید پڑھیں: فلپائن نے سمندری حدود میں چینی جہازوں کو ہٹانے کیلئے بحری جہاز کی تعیناتی شروع کردی

متعلقہ خبریں