راولپنڈی (نیوزڈیسک)سابق کور کمانڈر اور لیفٹیننٹ جنرل ( ر ) فیض علی چشتی طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔لیفٹیننٹ جنرل( ر ) فیض علی چشتی کی عمر 97 سال تھی اور وہ دل اور پھیپھڑوں کے عارضے کے باعث اسپتال میں زیرعلاج تھے۔
فیض علی چشتی وفاقی وزیر اور پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔سابق کور کمانڈر دل اور پھیپھڑوں کے عارضے کے باعث اسپتال میں زیرعلاج تھے
جنرل فیض علی چشتی 1977 کے مارشل لاء میں جنرل ضیاالحق کے دستِ راست تھے۔ 5 جولائی 1977 کو جس وقت ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا گیا، جنرل چشتی 10 کور کے کمانڈر تھے۔ یہ پاکستان کی طاقتور ترین کور ہے جس کے دائرہ کار میں ملکی دارالحکومت اور راولپنڈی بھی آتے ہیں۔
اسی کور کمانڈر کے اختیار میں وہ 111 برگیڈ بھی آتی ہے جو ہر بار مارشل لاء لگانے کے لئے حرکت میں آتی ہے۔ 1999 میں لگنے والے مارشل لاء کی تصاویر جن میں پاکستانی فوجی اہلکاروں کو پاکستان ٹیلی وژن کی عمارت کا دروازہ ٹاپتے دیکھا جا سکتا ہے، اسی 111 برگیڈ کی ہیں۔ 1977 میں اس کے سربراہ برگیڈیئر امتیاز وڑائچ تھے، اور یہ براہِ راست جنرل چشتی ہی کو جوابدہ تھے۔
پی آئی اے کے طیارے میں فنی خرابی ، مسافرحادثے سے بال بال بچ گئے















