اسلام آباد (اے بی این نیوز )محمود خان اچکزئی ے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہو ئے کہا کہ اس اسمبلی کے سامنے لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں۔ سر میں گولیاں ماری گئیں۔
کرم ایجنسی میں ڈیڑھ سو انسان مرے ہیں۔
اسمبلی نے مذمت کی قرارداد بھی پاس نہیں کی۔ یہ دو نمبر کی حکومت نہیں چلے گی۔ ہمیں مجبور نہ کریں۔ ڈائیلاگ ہونے چاہئیں، بانی پی ٹی آئی پاکستان کا سب سے مقبول لیڈر ہے۔
اس نے نہ قتل کیا ہے نہ ڈاکہ ڈالا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کو رہا کرکے بنی گالہ پہنچا دیں۔ ہم تمام اضلاع میں تحریک شروع کرنے والے ہیں۔ ہم اس حکومت کو عوامی طاقت سے گرائیں گے۔ ڈپٹی اسپیکر نے محمود خان اچکزئی کا ایک لفظ حذف کردیا
آسیہ اسحاق اور اپوزیشن ارکان میں تلخ کلامی۔ ثناء اللہ خان مستی خیل نے کہا کہ وہ کون سے کردار ہیں جن کی وجہ سے پاکستان دو لخت ہوا۔ 26 نومبر کو نہتے پاکستانیوں پر گولی چلائی گئی، کیوں چلائی گئی۔ چنگیز احمد خان نے کہا کہ
ہمارا مینڈیٹ چوری ہوا، واپس دیا جائے۔ 26 نومبر کو جو ہوا اس پر ایک کمیشن بننا چاہئے۔ اقبال آفریدی نے کہا کہ میرے حلقے میں آگ لگی ہے۔ حمید حسین نے کہا ہماری سڑک کھلوا دیں،
قومی اسمبلی کا اجلاس کل 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
مزید پڑھیں :ہم کسی سےمذاکرات کرنےکی بھیک نہیں مانگ رہے،حکومت سنجیدہ نہیں،سینیٹر علی ظفر















