اسلام آباد ( ندیم چوہدری ) وفاقی نظامت تعلیمات کے ڈائریکٹر کالجز آفتاب طارق نے معذور ایل ڈی سی کو بھی نہ بخشا ، من پسند ایل ڈی سی ( کلرکس) کو خلاف ضابطہ ترقی دے دی ۔ یوڈی سی کی سیٹ پر ترقی کےلئے قواعد کے تحت 50 فیصد کوٹہ پرموشن کا جب کہ 50 فیصد کوٹہ ڈائریکٹ بھرتی کا ہے ۔ قوانین کی خلاف وردی کرتے ہوئے مبینہ طور پر ڈائریکٹر کالجز کے ایل ڈی سی ( پی ایس ) وسیم سجاد کی خاطر غیرقانونی طریقہ سے من پسند8 ایل ڈی سی (کلرکس) کو ترقی دے دی گئی ۔ وفاقی نظامت تعلیمات ملازمین کی ترقی کے لئے اختیار سی پی ( کیئریر پلاننگ ) کے پاس ہوتا ہے سی پی چھٹی پر ہونے کے باعث اس کا اس کا چارج بھی ڈائریکٹر کالجز آفتاب طارق نے اپنے پاس ہی رکھ لیا اور من پسند ملازمین کی ترقی کر دی ۔ سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبروں پر ملازمین نے جوائنٹ سیکرٹری وزارت تعلیم کو غیر قانونی ترقیوں کے خلاف درخواست دے دی ۔ درخواست میں ایک معذور ملازم بھی شامل ہے جس کی ترقی کا حق مارا گیا ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ ایل ڈی سیز 18 سال سے ماڈل کالجز میں خدمت سرانجام دے رہے ہیں اور سارادن کمپیوٹر پر کام کرتے ہیں ٹائم سکیل پرموشن کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طور پر 8 افرد کو ایل ڈی سی سے یو ڈی سی کے متبادل ریگولر ترقی دے دی گئی ہے ۔ جب کہ کوٹہ 50 فیصد ہے سنیارٹی لسٹ کو بھی نظر انداز کر دیا گیا ہےا ور ڈائریکٹر کالجز آفتاب طارق کے دست راست کی خاطر اور من پسند ایل ڈی سیز کو ترقی دے دی گئی ۔ یو ڈی سی کی ترقی سے قبل کئے جانے والے کورس این آئی ٹی بی کےلئے بھی کئی ایل ڈی سیز نے درخواستیں دی کہ انہیں اس کورس کےلئے این او سی جاری کیا جائے لیکن ڈائریکٹر کالجز کے پی اے جو کہ خود ایل ڈی سی تھا اس نے مبینہ طور پر تمام درخواستیں ڈائریکٹر تک جانے ہی نہ دیں اور ترقی دینے سے قبل کسی بھی قسم کا سرکلر بھی جاری نہ کیا گیا اپنے مخصوص ملازمین کو سرکلر پرنٹ کر کے دے دیا گیا اور ان کو ہی ترقی بھی دے دی گئی ۔ جب کہ صریحا قوانین کی خلاف وردی کی گئی اور جو سیٹیں ڈائریکٹر بھرتی کی تھی جنہیں مشتہیر کر کے بھرتی کیا جانا تھا ان سیٹوں پر ڈائریکٹر کالجز آفتاب طارق نے بد نیتی سے اپنے من پسند ایل ڈی سیز کو ترقی دے دی ۔ اس حوالہ سے وفاقی سیکرٹری تعلیم سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہ دیا ۔
















