پشاور ( اے بی این نیوز )ہائیکورٹ ججز کے خط سے متعلق ازخودنوٹس کیس کے سلسلے میں پشاور ہائیکورٹ کی تجاویز سامنے آ گئیں،پشاور ہائیکورٹ نے جواب میں کہا کہ جب کوئی جج حلف لیتا ہے تو کسی بھی قسم کا دباؤ نہ لینے کی قسم کھاتا ہے، جج کے حلف میں لکھا ہے کہ وہ نہ دباؤ میں آئے گا نہ انصاف کی فراہمی میں ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی مداخلت برداشت کرے گا،آئینی معاملات میں ہائیکورٹ چیف جسٹس اور ججز پر مشتمل ہوتی ہے،ایسا کوئی ضابطہ نہیں جو انتظامیہ یا ریاستی اداروں کو ججز کے کام میں مداخلت کی اجازت دیتا ہو،صرف سپریم جوڈیشل کونسل ہائیکورٹ و سپریم کورٹ ججز کے خط کے ضابطہ اخلاق کی نمائندگی کرتی ہے،ججز کے ضابطہ اخلاق میں عدلیہ کے اندر ہونے والی مداخلت کے روک تھام کے لیے کوئی رہنمائی موجود نہیں ہے،پارلیمانی امور، سیاست اور عدالتی امور میں مداخلت ایک اوپن سیکرٹ ہے،
مزید پڑھیں :دنیا کو پرامن بنانا ہے تو غزہ میں مستقل امن قائم کرنا ہوگا،وزیر اعظم
سیاسی مقدمات میں ججز ایجنسیوں کی مداخلت کا شکوہ کرتے نظر آتے ہیں،کچھ ججز نے شکایات کیں کہ خفیہ ایجنسیوں نے سیاسی مقدمات میں فیصلے اپنی مرضی کے کروانے کے لیے مداخلت کی،بات نہ ماننے کی صورت میں ججز کو افغانستان سے غیر ریاستی عناصر نے جان سے دھمکیاں ملیں،ججز کو دھمکیاں ملنے کے بعد محکمہ انسداد دہشتگری کے سامنے اٹھایا گیا لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،ججز کو دھمکی ملنے کے معاملات اعلیٰ سطح پر بھی اٹھایا کیا،یہاں ہم ایسا فیصلے کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انٹیلیجنس ایجنسیوں کی سیاسی انجینئرنگ کی حوصلہ شکنی کی گئی،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں ایجنسیوں کی سیاست اور عدالتی امور میں
مزید پڑھیں :فوت ہونے والا فوڈ انسپکٹر کیسے زندہ ہو گیا،جانئے انہو نی کہانی
مداخلت کی ممانعت کی گئی،اعلیٰ عدلیہ کے جج کو ڈرانے دھمکانے سے روکنے کے لیے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل کیا جانا چاہیے،ہائیکورٹس کو اس معاملے پر مربوط لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے،اگر ایک جن کو دھمکی ملتی تو اسے متعلقہ چیف جسٹس کو آگاہ کرنا چاہیے،تجاویز کی کاپی سپریم جوڈیشل کونسل اور ہائیکورٹ کی انتظامی کمیٹی کو بھیجی جانی چاہیے،چیف جسٹس اور انتظامی کمیٹی کو متاثرہ جج کی شکایت پر فوری ایکشن لینا چاہے، جج کو ملنے والی دھمکی کی روک تھام کے لیے تمام اقدامات کیے جانے چاہیے،اگر ادارے ایسے معاملات میں تعاون نہیں کرتے جو پھر اسے جوڈیشل سائیڈ پر لارجر بینچ کے ذریعے دیکھنا چاہیے،
مزید پڑھیں :ججز خط کیس؛ملک تقسیم ہوچکا، طے کرلیں کہ کسی طاقت کے ہاتھوں استعمال نہیں ہونگے، چیف جسٹس
متعلقہ لارجر بینچ کو ان اداروں کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی سمیت دیگر احکامات جاری کرنے چاییے،ملوث خفیہ اداروں کے افسران کے خلاف فیصلہ دیا جانا چاہے،چیف جسٹس اور انتظامی کمیٹی کو شکایت موصول ہونے کے فوری بعد اس معاملے کو دیکھنا چاہیے،اگر متعلقہ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایسا کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو انتظامی کمیٹی کے سامنے سات روز میں معاملہ رکھنا چاہیے،اگر انتظامی کمیٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ اس معاملے کی مزید انکوائری ہونی چاہیے تو مجوزہ طریقہ کار پر عمل ہونا چاہیے،اس بابت ججز کے ضابطہ اخلاق میں ترمیم ہونی چاہیے، اگر ہائیکورٹ کے کسی جج کو ریاستی یا غیر ریاستی عناصر کی جانب سے دھمکی ملتی ہے یا مداخلت ہے تو اسے فوری طور پر چیف جسٹس ہائیکورٹ کو تحریری شکایت کے ذریعے آگاہ کرنا چاہیے، اگر چیف جسٹس یا انتظامی کمیٹی کے کسی ممبر جج کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو پھر ہائیکورٹ رولز کے تحت اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔
مزید پڑھیں :ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے والے طالب علموں کیلئے ریلیف















