اہم خبریں

ہمارے پاس وسائل کی کمی نہیں،اصل مسئلہ کرپشن ہے،سراج الحق

کراچی (نیوزڈیسک)امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ گورننس بہتر کرکے خودکفالت کی منزل اور قرضوں سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے، ملک میں وسائل کی کمی نہیں، مسئلہ کرپٹ طرز حکمرانی اور ناکام پالیسیاں ہیں۔امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں، جماعت اسلامی پاکستان،ایران، افغانستان کو ایک میز پر اکٹھا کرے گی۔کامیاب ہوکر سیاست میں زہریلی تقسیم ختم کریں گے،ہمیں ان دشمنوں سے لڑنا ہے جوملک کے خلاف سازشیں کررہے ہیں۔ سابقہ حکمران پارٹیوں کے منشور نئے سبز باغ، رٹی رٹائی گردانیں ہیں، انہوں نے ماضی میں ڈلیور کیا نہ آئندہ کچھ کرسکیں گی، جماعت اسلامی اپنے منشور پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے گی۔فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی دعوت پر فیڈریشن ہاؤس کراچی میں صنعتکاروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بے شمار وسائل سے مالامال کیا ہے، گڈ گورننس،فنڈز کے درست استعمال،کرپشن کے خاتمے اور مشاورت کے ساتھ ملک کا نظام چلایا جائے تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔جماعت اسلامی نے مسلسل اپنے منشور پر کام کیا ہے، جماعت اسلامی کے پاس 12سو پی ایچ ڈی اسکالرز موجود ہیں، ماہرین معاشیات، ماہرین صنعت، صحت، تعلیم،ماہرین آبی ذخائر ووسائل، ماہرین زراعت موجود ہیں، جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس نے انقلابی منشور قوم کے سامنے سب سے پہلے پیش کیا،جماعت اسلامی کے پاس معیاری تعلیم،مفت صحت کی سہولیات، دریاؤں کے پانی کو محفوظ کرنے،امن قائم کرنے کا مکمل منصوبہ موجود ہے، خارجہ پالیسی میں ہم نے طے کیا ہے کہ سب سے پہلے پاکستان، افغان اور ایران کو ایک میز پر اکٹھا کر کے بات کریں گے، ملک میں زہریلی سیاست کو ختم کرنے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک میز پر بٹھائیں گے اورملک و قوم کے مفاد میں بات کریں گے۔ملک کو ترقی دینے کے لیے ایک دوسرے کا گریبان پکڑنے کے بجائے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا،ہمیں مہنگائی،بے روزگاری کے خلاف لڑنا ہے۔ امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، امیدوار این اے 248بابر خان،این اے 237عرفان احمد، پی ایس 109ذکر محنتی، پی ایس 110سفیان دلاور،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگربھی اس موقع پر موجود تھے۔قبل ازیں فیڈریشن کے قائم مقام صدر ثاقب فیاض نے خیر مقدمی کلمات ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہم سراج الحق کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،ہم چاہتے ہیں کہ وہ ملک میں صنعت اور صنعت کاروں کے کے حوالے سے جماعت اسلامی کے منشور کے بارے میں بتائیں۔ سراج الحق سے صنعت کاروں نے مختلف سوالات کیے جن میں بیرون کراچی آن لائن سوالات بھی شامل تھے۔سراج الحق نے سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے،شرکاء نے تالیاں بجا کر ان کا خیر مقدم کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے بھی خطاب کیا اور فیڈریشن کی جانب سے مدعوکرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور جماعت اسلامی کی جانب سے قومی وصوبائی اسمبلی کے نامزد صنعت کار امیدواران کا تعارف بھی کروایا۔سراج الحق نے مزیدکہاکہ اس وقت ملک میں 14ہزار ارب روپے بجٹ ہے، میں نے وزیرخزانہ سے پوچھا کہ جب 7572ارب روپے سود اور قرض میں ادا کریں گے تو پھر کیا کریں گے انہوں نے بتایا کہ مزید قرضہ لیں گے،بدقسمتی سے معیشت کے ماہرین آئی ایم ایف کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اورآج پاکستان 25ارب ہزار ڈالر کا مقروض ہوگیا ہے۔ انہوں نے 2002میں کے پی کے حکومت میں بطور صوبائی وزیر خزانہ اپنے تجربے کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے اپنے صوبے کو قرض فری صوبہ بنایا جس پر ورلڈ بنک کی سفارش پر وفاقی حکومت کی جانب سے ہمیں 1.4بلین روپے بطورانعام دیے۔انہوں نے مزیدکہاکہ سندھ کی زمین 79فیصد قابل کاشت ہے جس میں سے صرف 22فیصد زمین زیر استعمال ہے اس کے باوجود پاکستان گنا کاشت کرنے پر دنیا کا آٹھواں بڑا ملک ہے جب کہ چاول کی کاشت میں ساتویں نمبر پر ہے اور اس سے بڑی نعمت ہمارے پاس اللہ کے دین کا نظام ہے، اگر پاکستان میں دینی نظام قائم ہوگا تو خود بخود مسائل حل ہوتے جائیں گے،پاکستان میں مادی وسائل کے انبار اور دینی قیادت کے باوجود پاکستان میں غربت موجود ہے،جس کے ذمہ دارحکمران ہیں۔امیر جماعت نے کہا کہ ورلڈ بنک کے مطابق پاکستان کی شرح ترقی 0.3فیصد ہے اس کی سب سے بڑی وجہ 17.7ارب بلین ڈالر ہر سال ملک کے اشرافیہ کھاجاتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کو پڑھانا اور ان کے مستقبل کو سنوارنا ہے، پاکستان میں 2کروڑ 80لاکھ بچے تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں،باوجود اس کے کہ ایک ہزار چار سو ارب روپے کا بجٹ صرف تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے،اسی طرح صحت کے بجٹ میں 1ہزار 2سو ارب روپے مختص کیے جاتے ہیں اس کے باوجود پاکستان کے عوام معاشی بدحالی کے نتیجے میں ڈپریشن کا شکار ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جماعت اسلامی اقتدار میں آئے گی تو سب سے پہلے میں خود کو احتساب کے لیے بطور نمونہ پیش کروں گا، وی آئی پی پروٹوکول کا خاتمہ کیا جائے گا، صنعتی اداروں کو ترقی دی جائے گی،صنعتی ترقی کے لیے پانی،بجلی اور گیس کی اشد ضرورت ہے، بد قسمتی سے آئی پیپز سے معاہدے کے نتیجے میں ہم بجلی کی پیداوار میں خود کفیل نہیں ہیں، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد آئی پیپز سے معاہدے ختم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کیے جائیں گے اور قوم کے ہاتھوں کی زنجیروں کو توڑیں گے۔سودی نظام کا خاتمہ کر کے زکوٰۃ اور عشر کا نظام نافذ کریں گے، پیٹرول اور گیس دوسرے ممالک سے منگوانے کے بجائے پڑوسی ملک ایران سے ہی منگوائیں گے۔پاکستان میں اس وقت 5ہزار ارب روپے سالانہ کرپشن ہوتی ہے، ہم اس کرپشن کو روک کر انہی پیسوں کو تعلیم،صحت اور ٹرانسپورٹ کے لیے خرچ کریں گے تو پاکستان ضرورترقی کرے گا۔

متعلقہ خبریں