اسلام آباد(نیوزڈیسک)کنوینر ورلڈ مینارٹی الائنس نوبل پیس پرائز کے لئے نامزد امیدوار اور سابق وفاقی وزیر جے سالک نےکہا ہے کہ دشمن ہمیں مذہب، نسل اور سیاست کی بنیاد پر لڑوانا چاہتا ہے،اسلام کے نام پر بننے والی تنظیمیں صرف پیسہ ہی کمارہی ہیں،، آرمی چیف نے کرسمس کے موقع پر کسی چرچ میں جاکروسیع سطح پر مثبت پیغام دیا ہے، چودہ سو سال پہلے حضرت محمد ﷺ نے خود سب سے بڑی مذہبی ہم آنگی کا نمونہ میثاق مدینہ کی شکل میں پیش کیا، مسیحی برابر کے شہری ہیں، اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور مذہبی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے،کنوینر ورلڈ مینارٹی الائنس نوبل پیس پرائز کے لئے نامزد امیدوار اور سابق وفاقی وزیر جے سالک نےان خیالات کا اظہار آرمی چیف کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اتوار کی سہ پہر ایک حوصلہ افزائی واک ” استحکام پاکستان ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا، ریلی ارجنٹینا پارک جی پی او چوک سے شروع ہوئی اور نیشنل پریس کلب اسلام آبا دا کر اختتام پزیر ہوئی، ریلی سے خطاب کرتے ہوئےبے سالک نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جب ملک میں نفرت اور تعصب کی فضاء بڑھ رہی ہے، آرمی چیف نے کرسمس کے موقع پر کسی چرچ میں جاکروسیع سطح پر مثبت پیغام دیا ہے،جس کیلئے دنیا بھر کی اقلیتیں آرمی چیف کو خراج تحسین پیش کر رہی ہیں، جے سالک نے کہا کہ اسلام امن اور بھائی چارے کا درس دیتا ہےمسیحی برابر کے شہری ہیں، اسلام بین المذاہب ہم آہنگی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور مذہبی ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے، ترقی یافتہ قوم جے سالک نے کہا کہ سالوں کی محنت کے بعد میں نے ملک سے نفرت اور تعصب کو ختم کیا لیکن بد نصیبی سے اب بین المذاہب ہم آہنگی کے طور پر ابھرنے کے لئے متحد ہونا ضروری ہے کیوں کہ دشمن ہمیں مذہب، نسل اور سیاست کی بنیاد پر لڑوانا چاہتا ہے،اسلام کے نام پر بننے والی تنظیمیں صرف پیسہ ہی کمارہی ہیں، انہوں نے کہا کہ چودہ سو سال پہلے حضرت محمد ﷺ نے خود سب سے بڑی مذہبی ہم آنگی کا نمونہ میثاق مدینہ کی شکل میں پیش کیا، میں نے مذہبی ہم آہنگی کے لئے بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبد القادر آزاد کو چرچ میں مدعو کیا، پھر میں خود بادشاہی مسجد میں گیا ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں شہر اعتکاف میں مولانا طاہر القادری کے ہمراہ اٹھارہ ہزار لوگوں سے اس سلسلے میں خطاب کیا۔ انکا کہنا تھا کہ آرمی چیف کے بیان سے مثبت فضاء قائم ہوگی اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا جو کہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ریلی کے شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر وطن عزیز پاکستان، پاک آرمی اور آرمی چیف کے حق میں نعرے درج تھے، چار سو پلے کارڈز پر صرف آرمی چیف کے مختلف بیان لکھے ہوئے تھے۔















