ایرانی صدر مسعود پزشکیان Masoud Pezeshkianنے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز Hormuz Strait کی مکمل بحالی اور خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے امریکا کو پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے اہم ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ دو مرتبہ مذاکرات کیے، مگر ہر بار اعتماد کو نقصان پہنچایا گیا اور سفارتی عمل کے دوران ایران کے خلاف اقدامات کیے گئے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ مستقبل میں مذاکرات اسی صورت ممکن ہیں جب جنگ کا مکمل خاتمہ ہو اور اس بات کی واضح ضمانت دی جائے کہ دوبارہ کسی قسم کی جارحیت نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی نے نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے امن، تجارت اور استحکام کو متاثر کیا ہے۔
انہوں نے متحدہ عرب امارات پر حملوں سے متعلق خبروں کو بھی سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران اگر کسی فوجی کارروائی میں شامل ہو تو اس کا باضابطہ اعلان کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پر بے بنیاد الزامات لگا کر خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے دی گئی 14 نکاتی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور عالمی طاقتوں کی سفارتی سرگرمیاں آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
ایران نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں جنگ نہیں بلکہ برابری، احترام اور خودمختاری کی بنیاد پر مذاکرات چاہتا ہے، تاہم دباؤ اور پابندیوں کے ماحول میں بات چیت ممکن نہیں۔















