اسلاباد (اے بی این نیوز)پاکستان اقتصادی سروے آج باقاعدہ طور پر شائع ہو چکا ہے،اسحاق ڈار، احسن اقبال اور ان کی ٹیم نے وزیراعظم کے ساتھ اس طریقے سے تصویر بنوائی جیسے یہ پاکستان کی تاریخ کا بہترین سال ہو، یہ وہ اقتصادی سروے ہے جو پاکستان کی معاشی تاریخ کا سیاہ ترین سال ہے، اس سروے میں حکومت نے خود اپنی نااہلی کا اعتراف کیا ہے، رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 0.3 فیصد رہی جو گزشتہ سال 6 فیصد تھی، اسحاق ڈار کے مطابق 6 فیصد شرح نمو غلط تھی تو پھر آپ نے اس کو ٹھیک کیوں نہیں کیا، اسحاق ڈار آج کی بات کرنے کی بجائے 2013 اور 2018 کو یاد کرتے رہے، پی ٹی آئی کے فوکل پرسن برائے معاشی امور مزمل اسلم نےاقتصادی سروے کی اشاعت پر ردعمل دیتے ہو ئے کہا کہ جو اعدادوشمار اچھے تھے صرف ان کو ظاہر کر دیا اور جو برے تھے ان کو پوشیدہ کر دیا، تحریک انصاف کے 3.5 سالہ دور میں ایک بار بھی ملک کے دیوالیہ کی بات نہیں ہوئی ، پی ڈی ایم حکومت آنے کے ہر ہفتے بعد دیوالیہ کی بات ہوتی ہے، اسحاق ڈار کم از کم یہی بتا دیں کہ انہوں نے ملک کو دیوالیہ سے کس طرح بچا لیا ہے، زرمبادلہ ذخائر صرف 4 ارب ڈالر ہیں اور 30 ارب ڈالر واجب الادا ہیں، آپ آئی ایم ایف کی شرائط ماننے کے بعد ان سے پیچھے ہٹ گئے، آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ سے بچا لیا،آپ سال 2021-22 اور 2022-23 کا موازنہ کر کے دیکھ لیں کہ دوست ممالک سے زیادہ پیسہ کس دور میں آیا،آپ ہی کے شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق آپ نے ایک سال میں 15 ہزار ارب کا قرض لیا،پی ٹی آئی نے 3.5 سال میں 18500 ارب روپے قرض لیا، آپ نے مہنگائی کا 76 سالہ ریکارڈ توڑ دیا جو 38 فیصد ہے، آپ کے دور میں پی ٹی آئی کے دور سے تین گنا زیادہ مہنگائی ہے، عالمی مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 22فیصد کمی ہوئی ہے۔ اگلے سال کی کارکردگی کی بجائے احسن اقبال نے 5ایز کی صورت میں 2035 کا چورن بیچا ہے، احسن اقبال دنیا کے واحد وزیر ہیں جو اپنے کمرے میں بیٹھ کر تین لوگوں کے ساتھ وژن بنا دیتے ہیں، احسن اقبال نے 2025 کے وژن میں برآمدات 100 ارب ڈالر تک لے جانے کی بات کی تھی،یہ اپنی حکومت آنے کے بعد سے برآمدات کو الٹا 25 ارب ڈالر سے 20 ارب ڈالر تک لے گئے، آزاد معاشی ماہرین کے مطابق شرح نمو منفی 3 فیصد ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ بڑی صنعت 8 فیصد سے گر رہی ہو اور چھوٹی صنعت 9.5 فیصد سے بڑھ رہی ہو، آپ کہہ رہے ہیں کہ فصلیں سیلاب سے تباہ ہو گئیں لیکن لائیو اسٹاک میں اضافہ ہوا۔آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ڈیزل کی فروخت 25 فیصد کم ہوئی اور ٹرانسپورٹ 4.5 فیصد بڑھ گئی، آپ نے شاید پاکستانی معیشت کو کبھی اتنی گہرائی سے نہیں دیکھا جتنا ہم دیکھتے ہیں، اگر آپ پھر بھی بضد ہیں کہ آپ کے اعدادوشمار درست ہیں تو ایک مناظرہ کر لیتے ہیں۔















