اہم خبریں

بنیادی صحت کی دیکھ بھال، غذائیت، متعدی بیماریوں پر قابو پانے کیلئے پاک امریکہ کو ملکر کام کرنا ہو گا،وفاقی ویزر صحت

اسلام آباد( اے بی این نیوز     )وفاقی ویزر صحت عبدالقادر پٹیل نے کہاہے کہ پاک امریکا ہیلتھ ڈائیلاگ کے دوسرے دور میں آپ سب کا خیر مقدم کرنا میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے، بنیادی صحت کی دیکھ بھال، غذائیت، متعدی بیماریوں پر قابو پانے کیلئے ملکر کام کرنا ہو گا،موسمیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے گرین الائنس کے لیے بھی مشترکہ طور پر کام کرنا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک امریکا کے درمیان ہیلتھ ڈائیلاگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پاک امریکا ہیلتھ ڈائیلاگ کے دوسرے دور میں آپ سب کا خیر مقدم کرنا میرے لئے بڑے اعزاز کی بات ہے ۔ پاکستان اور امریکا کی حکومتوں کے درمیان دوستی کے تعلقات کی تاریخ 75 سال سے زائد پرانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان کے صحت کے شعبے میں تعاون کی تاریخ تین دہائیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے ۔ صحت کے شعبے میں دوطرفہ تعلقات کو مضبوط اور برقرار رکھنے کے لیے پر عزم ہیں ۔ آج ہم مشترکہ اسٹریٹجک ترجیحات پر مزید غور و خوض کریں گے اور مزید موثر تعاون کے لیے ایک روڈ میپ پر بھی غور کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈائیلاگ کا پہلا راؤنڈ واشنگٹن میں منعقد ہوا، دونوں حکومتوں نے تعاون کے لیے وسیع تر شعبوں پر اتفاق کیا ۔ شعبہ صحت میں پا ک امریکا مذاکرات تعمیری اور سودمند ثابت ہوں گے۔ صحت ترقی اور غربت کے خاتمے کے لیے ایک عالمی تشویش ہے عبدالقادر پٹیل نے کہاکہ امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی اور بیماریوں کے کنٹرول کے مرکز کے ذریعے اسٹریٹجک مدد فراہم کرتا رہا ہے ۔ بنیادی صحت کی دیکھ بھال، غذائیت، متعدی بیماریوں پر قابو پانے کیلئے ملکر کام کرنا ہو گا ۔ عالمی صحت کے تحفظ کیلئے اقدامات کو مضبوط بنانے کیلئے مشترکہ کوشش کرنا ہو گی ۔ موسمیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے گرین الائنس کے لیے بھی مشترکہ طور پر کام کرنا ہے ۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں تباہ کن اثرات مرتب ہورھے ہیں بلکہ صحت سمیت سماجی شعبے پر بھی اس سے زیادہ سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ ہمیں اپنی سرحدوں پر صحت کی خدمات کو بہتر بنانے اوربیماریوں سے نمٹنے کیلئے، مربوط حکمت عملی تشکیل دیناہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مشترکہ عزم آ ر ایم این سی ایچ خدمات کو مضبوط کرنا، متعدی اور غیر متعدی بیماریوں پر قابو پانا ہے ۔ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یو ایچ سی سے متعلق خدمات میں بڑا فرق غذائیت کا ہےجس کی صورتحال حالیہ سیلاب کے بعد مزید خراب ہوئی ہے ۔ حکومت اپنے امریکی دوستوں کے ساتھ بامعنی بات چیت کرنے کے لیے کوشاں ہے ۔ ہم اس موقع کو بے حد سراہتے ہیں اور امریکا کے ساتھ مستقبل میں تعاون اور شراکت داری کے منتظر ہیں

متعلقہ خبریں