اہم خبریں

ٹرمپ نے دوبارہ ایران پر حملے کا عندیہ دیدیا

امریکی صدر Donald Trump نے ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں، اور اب تک ایران iranنے اپنے اقدامات کی پوری قیمت ادا نہیں کی۔ ان کے حالیہ بیانات نے عالمی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا کی ایران کے ساتھ مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، تاہم ایران کی جانب سے موصول ہونے والی نئی تجاویز پر انہیں ابھی مکمل بریفنگ دی جائے گی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ یہ تجاویز شاید قابل قبول نہ ہوں، اور امریکا اس معاملے کو جلد بازی میں ختم نہیں کرے گا تاکہ مستقبل میں دوبارہ مسائل جنم نہ لیں۔

راولپنڈی میں خاتون سے زیادتی اورنومولود بچی کو اغوا کرنیوالا ہوٹل منیجر گرفتار

صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کو بھی زیر بحث لاتے ہوئے کہا کہ وہاں کی ناکہ بندی کو وہ “دوستانہ” قرار دیتے ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان عالمی تجارتی راستوں اور توانائی کی ترسیل پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ایک اور اہم پیش رفت میں انہوں نے اعلان کیا کہ جرمنی سے پانچ ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جا رہا ہے، جو یورپی سیکیورٹی اسٹرکچر میں تبدیلی کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب انہوں نے کیوبا کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے بعد امریکی بحریہ کا ایک بڑا طیارہ بردار جہاز کیوبا کے ساحل کے قریب تعینات کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس تعیناتی سے دباؤ بڑھے گا اور کیوبا کو جھکنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں