ڈونلڈ ٹرمپ ( Trump )نے وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے دوران فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان کی جان لینے کی ایک اور کوشش تھی، تاہم اس حملے کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ مشتبہ شخص نے تقریباً پندرہ گز کے فاصلے سے حملے کی کوشش کی اور اس کے پاس متعدد ہتھیار موجود تھے۔
صدر کے مطابق واقعے کے دوران اچانک زوردار آوازیں سنائی دیں جس سے تقریب میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اسی دوران میلانیا نے بھی غیر معمولی آواز کی نشاندہی کی۔ فائرنگ کے باوجود صدر محفوظ رہے جبکہ موقع پر موجود سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گرفتار کر لیا۔
اے بی این نیوز کی خبر،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ایکشن
امریکی صدر نے سیکیورٹی ادارے سیکریٹ سروس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بروقت کارروائی نے کئی قیمتی جانیں بچائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اہلکار کو گولی لگی تاہم وہ بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے محفوظ رہا۔
حکام کے مطابق گرفتار مشتبہ شخص کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے ہے اور تحقیقات جاری ہیں کہ آیا وہ اکیلا تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم منصوبہ کارفرما تھا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس واقعے کے باوجود تقریبات منسوخ نہیں کی جائیں گی اور جلد ہی اس سے بھی بڑی تقریب کا انعقاد کیا جائے گا۔ انہوں نے قومی اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اختلافات کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔















