خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات شفیع جان shafi jan ptiنے اے بی این نیوز کے پروگرام “ڈیبیٹ @8” میں گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ بی بیbushra bi bi کی صحت اور جیل سے متعلق ان کی منتقلی کے معاملے پر حکومتی مؤقف پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان imran khan کی صحت بارے بھی تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پورے معاملے میں شفافیت نہیں دکھائی گئی اور نہ ہی متعلقہ خاندان اور سیاسی قیادت کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ رات کے وقت جیل سے کسی قیدی کو منتقل کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے اور اس طرزِ عمل پر قانونی و انتظامی پہلوؤں سے بھی اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق نجی ہسپتال میں منتقلی کے بعد فوری واپسی اور علاج کے دوران مناسب طبی نگرانی نہ رکھنا بھی ضابطے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
شفیع جان نے الزام عائد کیا کہ اس معاملے میں وہی طرزِ عمل اپنایا گیا جو پہلے بھی بعض حساس کیسز میں دیکھا گیا، جبکہ ذاتی معالج تک رسائی نہ دینا بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ کے احکامات کی مبینہ خلاف ورزی پر بھی شدید تحفظات موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندیوں اور اہلخانہ کو معلومات نہ دینے سے صورتحال مزید تشویشناک بنی ہے۔ ان کے مطابق سرجری اور اسپتال منتقلی کے دوران اہلخانہ کو مکمل طور پر لاعلم رکھا گیا، جو ایک سنگین معاملہ ہے۔
مشیر اطلاعات نے کہا کہ علاج کے بعد مریض کو ڈاکٹرز کی سخت نگرانی میں رکھنا ضروری ہوتا ہے، تاہم اس معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے عدالت سے رجوع بھی کیا گیا ہے تاکہ بشریٰ بی بی کی صحت اور علاج کو مناسب قانونی و طبی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت اور اہلخانہ اس صورتحال پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں اور شفافیت کے ساتھ تمام معاملات سامنے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی نے اے بی این نیوز کے پروگرام “ڈیبیٹ @8” میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مختلف طبی اور جیل نظام میں مریضوں کی دیکھ بھال کا عمل معمول کے مطابق جاری ہے اور اس میں کسی غیر معمولی صورتحال کا تاثر درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ زیر علاج افراد کا روزانہ طبی معائنہ کیا جاتا ہے، بروقت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور ضرورت پڑنے پر مریضوں کو ہسپتال منتقل بھی کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات ایک طے شدہ قانونی اور طبی طریقہ کار کے تحت ہوتے ہیں۔اختیار ولی نے کہا کہ قیدی اگر ہوش و حواس میں ہو تو علاج کے لیے اس کی رضامندی ضروری ہوتی ہے اور ہنگامی صورتحال میں ہی اہلخانہ کو فوری طور پر اطلاع دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام کیسز میں انتظامیہ خود نگرانی اور ذمہ داری سنبھالتی ہے، جبکہ مریض کی جانب سے باقاعدہ اجازت نامہ بھی دیا جاتا ہے۔انہوں نے بشریٰ بی بی کی سرجری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک معمول کا طبی پروسیجر تھا، جس کے بعد ان کی صحت تسلی بخش ہے اور کسی پیچیدہ صورتحال کا سامنا نہیں ہوا۔
اختیار ولی نے کہا کہ حکومت جیلوں میں موجود افراد کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام بنیادی اور ضروری طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے، اور بعض صورتوں میں قیدیوں کو وہ سہولیات بھی میسر ہوتی ہیں جو عام شہریوں کو حاصل نہیں ہوتیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں سیکیورٹی اور علاج کے حوالے سے کسی قسم کی تشویش کی ضرورت نہیں، کیونکہ انہیں تمام مروجہ سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔















