ایران ( iran)کی جانب سے خلیج فارس اور بحیرہ احمر کی اہم تجارتی گزرگاہوں کو بند کرنے کی دھمکی نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے، اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اسے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا۔ حکام کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ایٹمی ہتھیاروں بارے ایران کا بڑا بیان سا منے آگیا،جا نئے کیا
ایران کی جانب سے یہ بھی عندیہ دیا گیا ہے کہ خلیج فارس، بحیرہ عمان اور بحیرہ احمر میں تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کیا جا سکتا ہے، جو عالمی سپلائی چین کے لیے انتہائی اہم راستے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان گزرگاہوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو تیل کی ترسیل اور عالمی تجارت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ ایران کی بحیرہ احمر تک براہ راست رسائی نہیں، تاہم علاقائی اثر و رسوخ کے باعث وہ اس خطے میں حالات پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن میں موجود اس کے اتحادی ماضی میں بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں، جس سے اس خدشے کو مزید تقویت ملتی ہے۔















