لاہور(نیوزڈیسک)مسلم لیگ ن کے رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی سے کسی بھی سطح پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہیں ہو گی۔سہولت کاری آج بھی موجود ہے جس کی مثالیں دے سکتا ہوں، قطری خط کے معاملے کو اچھالا گیا، ہم سے پوچھا جا رہا ہے کہ ہم جلسے جلوس کیوں نہیں کر رہے۔ آپ 9 اور 10 مئی کے واقعات کو جرم نہیں سمجھتے تو جیلوں میں بند لوگوں کو باہر نکال دیں، اگر 9 اور 10 مئی کے واقعات جرم ہیں تو الیکشن سے پہلے سزائیں سنائی جائیں۔منگل کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو، نواز شریف اور بانیٔ پی ٹی آئی کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟میاں جاوید لطیف نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی خدمت کی، ملک کو ناقابلِ تسخیر بنانے کی بنیاد رکھی، نواز شریف نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنا کر دکھایا جبکہ بانیٔ پی ٹی آئی نے جیل میں بیٹھ کر الیکشن کمیشن ممبران کو دھمکیاں دیں۔انہوں نے کہا کہ سہولت کاری آج بھی موجود ہے جس کی مثالیں دے سکتا ہوں، قطری خط کے معاملے کو اچھالا گیا، ہم سے پوچھا جا رہا ہے کہ ہم جلسے جلوس کیوں نہیں کر رہے۔ن لیگی رہنما نے کہا کہ ہمارے لوگ اپنے اپنے حلقوں میں کارنر میٹنگز کر رہے ہیں، ہماری قیادت بھی ایک دور روز میں جلسے کرنا شروع کر دے گی۔میاں جاوید لطیف کا یہ بھی کہنا تھا کہ آپ 9 اور 10 مئی کے واقعات کو جرم نہیں سمجھتے تو جیلوں میں بند لوگوں کو باہر نکال دیں، اگر 9 اور 10 مئی کے واقعات جرم ہیں تو الیکشن سے پہلے سزائیں سنائی جائیں۔















