کراچی ( اے بی این نیوز )ایم کیو ایم نےانتخابی منشور پیش کردیا کالد خالد مقبول صدیقی نے انتکابی منشور پیش کرتے ہو ئے کہا کہ غیرمعمولی صورتحال غیر معمولی اقدامات کی متقاضی ہے،عوام کو جمہوریت کے ثمرات پہنچانے کا نسخہ لیکر آئے ہیں،ہمارے پاس مشکلات کیلئے آئینی نسخہ موجود ہے،پاکستان میں 8فروری کو انتخابات ہوں گے،پاکستان اس وقت مضبوط ہوگاجب عام پاکستانی مضبوط ہوگا،ہمیں ادھوری ،نامکمل اور اختیارات کے بغیر جمہوریت نہیں چاہیے،مصطفی کمال نے کہا کہ 70سالوں سے ہر وزیراعلیٰ سندھی بولنے والا ہے ،صوبے کے عوام 70سال کے وزیراعلیٰ سے حساب مانگیں،ملک کا 56 فیصدبجٹ کہاں چلاجاتا ہےاس کا پتا نہیں،ایم کیو ایم نے الفاظ کو ادھر سے اٹھا کر ادھر نہیں کیا،15 سالہ دور میں سندھ پر 2200 ارب بھی خرچ نہیں ہوئے ، فاروق ستار نے مزید کہا کہ عوام کے بنیادی حقوق کوبازیاب کرانے کیلئےجدوجہدکررہے ہیں،ایم کیوایم پاکستان اپنے منشورکے مطابق عوام کی مشکلات دورکررہی ہے،پاکستان کے ہر شہری کو آگے بڑھنے کا موقع دینا چاہیے،ایم کیوایم پاکستان کی قیادت متوسط طبقےسےتعلق رکھتی ہے،ہم نے آئینی ترامیم اورپیکج کابل دیا،معیشت اس وقت بری طرح سےتباہ وبربادہے،مہنگائی اوربیروزگاری کی وجہ سےنوجوان پریشان ہیں،ریاست کی ذمہ داری ہے ہر شہری کو ہنر مند بنائے،یہ منشور عوام کو غلامی اور مایوسی سے نجات دلانے کیلئے ہے،ہم نے آئینی ترامیم کو ایک پیکج دیا ہے،تمام ریاستی اور آئینی اداروں کیلئے بھی یہ لمحہ فکریہ ہے،ایم کیو ایم کی بیشتر قیادت مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہے،60 سال تک ایک ٹرک کی بتی کے پیچھے ہمیں لگایا گیا،؎اس شہر کی 25 کروڑ آبادی ہے یہاں کے لوگوں کو قابل بنائیں۔















