اہم خبریں

مشرق وسطیٰ میں جھڑپیں، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بے نتیجہ ختم

برسلز(نیوزڈیسک)مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات، تیسرے روز بھی غزہ میں جھڑپیں جاری ، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بغیر کسی نتیجہ ختم ہوگیا۔حماس کے اسرائیل پر حملے میں 70 سے زائد فوجیوں سمیت 700 کے قریب یہودی آبادکار ہلاک ہوچکے ہیں، مالٹا کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بند کمرہ ہنگامی اجلاس ہوا۔کچھ ممالک حماس کے مخالف اور کچھ ممالک نے موافقت میں فیصلہ سنادیا ، جس کے بعد نہ کوئی باضابطہ قرارداد پیش کی جاسکی نہ ہی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوسکا، سینیئر امریکی سفارتکار رابرٹ ووڈ نے روس کا نام لیے بغیر کہا کہ اجلاس میں حماس کی مذمت نہ کرنے والوں میں ایک ایسا ملک بھی تھا جس کا اندازہ آپ خود لگاسکتے ہیں۔دوسری جانب روس کے سفیر ویسیلی نیبنزیا نے کہا کہ ہم فوری جنگ بندی اور ایسے بامعنی مذاکرات کے حق میں ہیں جس کا سلامتی کونسل کئی دہائیوں سے مطالبہ کر رہی ہے۔ادھر اسرائیلی سفیر نے یرغمال اسرائیلی شہریوں کی تصاویر دیکھا کر حماس کے جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی دہائی دی۔جواب میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے کہا کہ افسوس کی بات ہے، میڈیا اور کچھ سیاست دانوں کی تاریخ وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں اسرائیلی مارے جاتے ہیں اور جہاں اسرائیلی حکومت قاتل ہوتی ہے، یہ چپ سادھے رہتے ہیں۔فلسطین اتھارٹی کے سفیر ریاض منصور نے مزید کہا کہ یہ وقت اسرائیل کے خوفناک جنگ کے انتخاب کی حمایت کا نہیں بلکہ اسرائیل کو جنگ کے انتخاب سے دستبردار کروا کر امن کا راستہ دکھانے کا ہے جہاں نہ فلسطینی مارے جائیں اور نہ ہی اسرائیلیوں کی جان کو کوئی خطرہ ہو۔ریاض منصور نے سلامتی کونسل اور عالمی قوتوں پر زور دیا کہ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔چین کے سفیر نے اجلاس میں قرارداد کے پیش نہ ہونے اور اعلامیہ جاری نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر معمولی بات ہے کہ سلامتی کونسل نے کچھ نہیں کہا۔واضح رہے کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اسرائیل کے خلاف باقاعدہ منصوبہ بندی اور منظم انداز سے شروع کیے گئے ’ آپریشن الاقصیٰ فلڈ ‘ میں اب تک 1000 سے زائد اسرائیلی شہری اور فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

متعلقہ خبریں