مالٹن آنٹاریو ( اے بی این نیوز )کینڈا کے شہر مالٹن آنٹاریو میں خالصتان ریفرنڈم کا دوسرا مرحلہ، ووٹ ڈالنے کیلئے ہزاروں سکھوں کا سیلاب اُمڈ آیا،42 ہزار سے زائد سکھوں نے گھنٹوں قطاروں میں لگ کر ووٹ ڈالا،کینڈا میں خالصتان کے حامی ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد سکھوں کے جذبہ آزادی میں نیا جوش آگیا،ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بھارت کی یہ غلط فہمی دور ہوگئی کہ خالصتان کی تحریک دم توڑ جائے گی،کینڈا میں خالصتان کی تحریک کے علم بردار ہردیپ سنگھ نجر کو ریفرنڈم سے تقریبا ایک ماہ قبل قتل کردیا گیا تھا،ووٹ ڈالنے آئے افراد نے خالصتان کے پرچم اٹھا رکھے تھے، آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے جاتے رہے،گرپتونت سنگھ پنوں جنرل قونصل سکھ فار جسٹس نے کہا کہ بھارت کے ہاتھوں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے آزادی کی تحریک مزید تیز ہوئی، بھارت کے تشدد کا جواب طاقت سے دیں گے،
بھارتی ایجنسیوں کے ہاتھوں ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کو دینا میں “کل انڈیا” مہم سے اجاگر کریں گے،خالصتان ریفرنڈم کے کینڈا میں چیف کوآرڈینیٹر ہردیپ سنگھ نجر کو 18 جون کو قتل کردیا گیا تھا
ریفرنڈم سے قبل کینڈا میں بھارتی ہائی کمشنر سنجے کمار ورما نے دھمکی دی تھی کہ بھارت نواز انڈینز پرتشدد جواب دینگے، سکھ فار جسٹس نے کینڈین وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ سکھوں کے حقوق میں مداخلت پر بھارتی ہائی کمشنر کو نکال دیا جائے13 جولائی کو بھارتی ہائی کمشنر نے ریفرنڈم کے انعقاد کو بھارت کینیڈا تعلقات خراب کرنے کی کوشش قرار دیا تھا لاکھوں بھارتی گریٹر ٹورنٹو میں ہونے والے ریفرنڈم کا مقابلہ کریں گے، بھارتی ہائی کمشنر نے یہ انتباہ بھی دیا تھاسکھ فار جسٹس نے گزشتہ ہفتہ برطانیہ، کینڈا، امریکا اور اٹلی میں کل انڈیا ریلیاں بھی نکالی تھیںسکھ فار جسٹس نے ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث بھارتی سفارت کاروں کی تصاویر بھی جاری کی تھیں ریفرنڈم کی ووٹنگ سے 24 گھنٹے قبل بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی کینیڈین ہم منصب سے ملاقات بھی ہوئی تھیکینیڈا نے بھارتی سفارت کاروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی یقین دھانی کرائی تھیبرطانیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم میں 10 لاکھ سے زائد سکھ ووٹ ڈال چکے ہیں















