نئی دہلی(اے بی این نیوز)بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں یمنا ندی کے پانی کی سطح بڑھنے کی وجہ سے کئی علاقوں میں حالات انتہائی خراب ہو گئے ہیں۔ سیلابی پانی گنجان رہائشی علاقوں سے وی وی آئی پی علاقوں میں داخل ہوگیا ہے۔ وزیراعلی کی رہائش گاہ، وزراکی رہائش گاہیں اور سیکرٹریٹ بھی سیلابی پانی کی زد میں آچکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ہریانہ کے ہتھینی بیراج سے چھوڑے جانے والے پانی اور گذشتہ کچھ دنوں میں ہونے والی موسلا دھار بارش کی وجہ سے دریائے یمنا کے پانی کی سطح خطرے کے نشان سے اوپر پہنچ گئی ہے۔دہلی میں سیلاب جیسی صورتحال کے پیش نظر لال قلعے کوسیاحوںکے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ دلی میں سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ساڑے چار ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔بھارتی محکمہ موسمیات نے آج دلی، مغربی بنگال، بہار، اتر پردیش، ہریانہ، ہماچل پردیش، مشرقی راجستھان، جھاکھنڈ،تامل ناڈو ، انڈمان ، نکو بار جزائر ،گجرات، تلنگانہ، چھتیس گڑھ کے کچھ حصوں، اڈیسہ کے کچھ حصوں اور گوا وغیرہ میںمزید بارشوںکی پیش گوئی کی ہے۔















