تل ابیب (نیوزڈیسک)اسرائیل نے اتوار کے روز غزہ کی پٹی کے قریب گیس فیلڈ کی تعمیر کی ابتدائی منظوری دے دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے لیے فلسطینی اتھارٹی اور ہمسایہ ملک مصر کے ساتھ سکیورٹی روابط کی ضرورت ہوگی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے نقدی کے بحران سے دوچار فلسطینی معیشت کو تقویت ملے گی۔غزہ میرین منصوبہ پر اقدام کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا
کہ پیش رفت کا دارومدار اسرائیل کی سلامتی اور سفارتی ضروریات کے تحفظ پر ہے۔اگرچہ مصر اور اسرائیل برسوں سے مشرقی بحیرہ روم (بحر متوسط) سے گیس نکال رہے ہیں ، لیکن غزہ کے ساحل سے قریباً 30 کلومیٹر (20 میل) دور غزہ میرین فیلڈ ، اسرائیل کے ساتھ سیاسی تنازعات کے علاوہ معاشی عوامل کی وجہ سے غیر ترقی یافتہ ہے۔ایک اندازے کے مطابق غزہ میرین کے پاس دس کھرب (ایک ٹریلین) مکعب فٹ قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں۔یہ مقدار فلسطینی علاقوں کو بجلی مہیا کرنے کے لیے درکار گیس سے کہیں زیادہ ہے اور اس میں سے کچھ ممکنہ طور پر برآمد کی جا سکتی ہے۔فلسطینی اتھارٹی نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔البتہ ایک فلسطینی عہدہ دار نے کہا کہ ہم یہ تفصیل جاننے کے منتظر ہیں کہ اسرائیلیوں نے کس بات پر اتفاق کیا ہے اور ہم میڈیا کو دیے گئے بیان کی بنیاد پر کوئی مؤقف پیش نہیں کر سکتے۔حماس کے عہدہ دار اسماعیل رضوان نے خبر رساں ادارے گفتگو میں کہاکہ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ غزہ میں ہمارے لوگوں کو اپنے قدرتی وسائل پر حقوق حاصل ہیں۔















