اہم خبریں

کشتی حادثہ،پاکستانیوں کے ساتھ کیا بیتی، برطانوی میڈیاکے ہوشربا انکشافات

لندن(نیوزڈیسک)برطانوی میڈیا نےدعویٰ کیا ہے کہ یونان میں کشتی حادثے کے دوران آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے 135 افراد سمیت 298 پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یونان کے ساحل پر ڈوبنے والی کشتی میں زندہ بچ جانے والے تارکین وطن کی جانب سے کوسٹ گارڈز کو بتایا گیا کہ پاکستانیوں کو زبردستی ماہی گیری کی کشتی کے نچلے حصے میں رکھا گیا تھا جبکہ دیگر شہریوں کو کشتی کے اوپر والے حصہ میں سوار کیا گیا تھا۔برطانوی میڈیا کے مطابق ایسے سوالات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ یونانی کوسٹ گارڈ نے اس سانحے میں بے انتہا کوتاہی برتی اور اپنے کردار کو چھپایا۔زندہ بچ جانے والے تارکین وطن کی جانب سے بتایا گیا کہ اس وقت حادثے میں 500 افراد لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔ پاکستانیوں کے ساتھ انتہائی برا سلوک کیا گیا، زبردستی کشتی کے نیچے والے حصے میں رکھا گیا تھا، اسی دوران جب وہ پانی پینے کے لیے اوپر آتے تو ان پر بدترین تشدد کیاجاتاتھا ، اسی دوران خواتین اور بچے کو سامان رکھنے والے جگہ پر زبردستی بند کیا گیا ، حادثے میں عورتیں اور بچے چل بسے ۔اخبار نے پاکستان کے مقامی میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اندازہ کے مطابق حادثے کے شکار ہونے والی کشتی میں 400 سے زائد افراد سوار تھے، اس میں 135 کشمیریوں سمیت 298 پاکستانی ہلاک ہوئے ۔برطانوی میڈیا کے مطابق مراکشی نژاد اطالوی سوشل ورکر نوال صوفی نے کہا کہ مسافر کشتی ڈوبنے سے ایک دن قبل مدد کی التجا کر رہے تھے۔میں گواہی دے سکتی ہوں وہ لوگ زندہ بچنے کے لیے کسی بھی ادارے سے مدد مانگ رہے تھے۔ مراکشی نژاد اطالوی سوشل ورکر کا بیان یونانی حکومت کے بیان سے متصادم ہے جس نے کہا تھا مسافروں نے کوسٹ گارڈ سے مدد کی درخواست نہیں کی کہ وہ اٹلی جانا چاہتے ہیں۔نئے بیانات سے یہ معلوم ہوا ہے کشتی کا انجن ڈوبنے سے کئی دن پہلے خراب ہو گیا تھا جس سے اس بات کا امکان پیدا ہوتا ہے کہ عملے نے مدد مانگی ہو گی۔کوسٹ گارڈ کو ایک تارک وطن نے ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ ہم نے جمعے کو علی الصبح سفر شروع کیا۔ تقریباً 700 افراد کشتی میں سوار تھے۔ ہم تین دن سے سفر کر رہے تھے اور پھر انجن خراب ہو گیا۔

متعلقہ خبریں