لاہور(نیوزڈیسک)پنجاب میں مخلوط حکومت بننے کے بعد وفاقی سطح پر تحریک عدم اعتماد کیلئے دبائوبڑھتا جارہاہے ، گزشتہ ماہ وزیراعظم شہبازشریف نے جس طرح گورنر کو وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے استعمال کیا، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم کو اس اقدام میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان اور چوہدری پرویز الٰہی کے درمیان کرپشن الزامات کے باعث دوریاں بڑھتی جارہی تھیں۔ تاہم گزشتہ روز بالآخر پرویز الٰہی اور عمران خان کی ملاقات ہوگئی جس کے بعد پنجاب میں کشمکش کی سیاست کا خاتمہ ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق
سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے پنجاب میں اپنے اتحادی اور صوبائی وزیراعلیٰ پرویز الہٰی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’اِن کی اربوں کی کرپشن کے الزامات کے باعث میری مقبولیت متاثر ہورہی ہے‘۔ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ اجلاس میں عمران خان نے کہا کہ ’میں پنجاب میں مخلوط حکومت کے خلاف ایسے الزامات کو برداشت نہیں کر سکتا‘۔سابق وزیر اعظم نے زور دیا کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینے اور اسمبلی تحلیل کرنے پر آمادہ کریں۔پی ٹی آئی چیئرمین کے مذکورہ ریمارکس سامنے آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے زمان پارک (عمران خان کی رہائش گاہ) کا دورہ کیا اور عمران خان کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) بھرپور طریقے سے پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑی ہے۔رہنما مسلم لیگ (ق) مونس الہٰی (جو اس وقت بیرون ملک موجود ہیں) نے ڈان کو بتایا کہ ان کے والد کی عمران خان سے ملاقات کے نتیجے میں تناؤ ختم ہوگیا ہے، کسی قسم کی عناد کی بجائے وہ دونوں اب بہترین دوست بن گئے ہیں۔مونس الہٰی نے دعویٰ کیا کہ ’عمران خان نے میرے والد کو یقین دلایا ہے کہ جو بھی معلومات ان کے پاس آئیں گی وہ سب سے پہلے پرویز الہٰی کے ساتھ شیئر کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’پرویز الٰہی نے بھی یقین دہانی کروائی کہ عمران خان ہی ان کے لیڈر ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے‘، انہوں نے زور دیا کہ ’ہمارا اتحاد پہلے سے زیادہ مضبوط ہے‘۔ایک جانب عمران خان پنجاب اسمبلی میں اعتماد کے ووٹ میں تاخیر پر تذبذب کا شکار ہیں، جبکہ دوسری جانب سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر نے بالکل مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب میں حکمران اتحاد اپوزیشن کی خواہش پر اعتماد کا ووٹ نہیں لے گا‘۔















