اسلام آباد(نیوزڈیسک)صدرمملکت عارف علوی نے انوارالحق کاکڑکی بطورنگراں وزیراعظم تقرری کی منظوری دیدی،صدرمملکت نے نگراں وزیراعظم کی منظوری آئین کے آرٹیکل 224ون اے کے تحت دی ،جس کے بعد انوارالحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگراںوزیراعظم بن گئے ،قبل ازیں وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور قائد حزب اختلاف راجہ ریاض کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد وزیرِ اعظم شہبازشریف اور اپوزیشن لیڈر کے مابین نگران وزیرِ اعظم کی تقرری پر حتمی مشاورت کا عمل خوش اسلوبی سے مکمل ہوااورانوار الحق کاکڑ کے نام پر بطور نگران وزیرِ اعظم اتفاق ہوا۔وزیرِ اعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشترکہ طور پر دستخط کرکے ایڈوائس صدر پاکستان کو بھجوائی تھی ، وزیرِ اعظم نے قائد حزب اختلاف کا مشاورتی عمل میں تعاون اور ان 16 ماہ میں بطور بہترین حزب اختلاف کی قیادت پر شکریہ اداکیا،میڈیاسے بات چیت میں راجہ ریاض نے کہا کہ انوار الحق کاکڑ نگران وزیراعظم ہوں گے ۔یادر ہے کہ انوار الحق کاکڑ مارچ 2018 سے سینیٹ کے رکن ہیں. وہ بلوچستان کے علاقے مسلم باغ قلعہ سیف اللّٰہ میں 1971 میں پیدا ہوئے۔انوار الحق کاکڑ نے ابتدائی تعلیم سن فرانسزہائی اسکول کوئٹہ سے حاصل کی، انہوں نے کیڈٹ کالج کوہاٹ میں داخلہ لیا، والد کے انتقال پرواپس کوئٹہ آ گئے۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے یونیورسٹی آف بلوچستان سے پولیٹیکل سائنس اور سوشیالوجی میں ماسٹر کیا اور انہوں نے کیریئر کا آغاز اپنے آبائی اسکول میں پڑھانے سے کیا۔انہوں نے 2008 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر کوئٹہ سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا جس میں انہیں کامیابی نہ مل سکی اور وہ 2013 میں بلوچستان حکومت کے ترجمان رہے۔2018 میں انوار الحق کاکڑ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی ترجمان مقرر ہوئے اور وہ بلوچستان سے 2018 میں سینیٹر منتخب ہوئے تھے۔سینیٹر انوار الحق کاکڑ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سمندر پار پاکستانی کے چیئرمین رہے۔















