اہم خبریں

سپریم کورٹ:فوجی عدالتوں میں سویلینز کا ٹرائل؛ فل کورٹ بنانے کی درخواست مسترد

اسلام آباد(نیوزڈیسک)فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائلز سے متعلق کیس کی سماعت ، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ اگر فوجی عدالتیں ہی آئینی عدالت میں اپیل کا حق دیا جائے تو کیا ہو گا،ملٹری کورٹس تو پھر کسی ہائی کورٹ کے زیر نگرانی نہیں ہو گی؟کیا ایسی صورتحال میں ملٹری کورٹس آرٹیکل 175 کے تابع آ جائیں گی اٹارنی جنرل نے کہا کہ جی ہاں اپیل کے حق سے ملٹری کورٹس پھر عام عدالت بن جائیں گی۔ میں آج کوئی بیان نہیں دے سکتا کل تک کیس جاتا ہے تو میں مزید بات کروں گا ۔۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ ہریوں کے بنیادی حقوق تو آئین کے آرٹیکل175 سے بنی عدالت میں ہی ہوتے ہیں، فوجی عدالتوں میں شہریوں کے یہ حقوق کیسے ملیں گے؟اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جسٹس منیب اختر کے سوالات کے جوابات میں جسٹس عائشہ ملک کے جوابات بھی بتاؤں گا: جسٹس اعجاز الااحسن نے کہا کہ ملٹری کورٹس بھیجنے کے لیے کسی سول شہری کا فوج یا ان سے براہ راست تعلق لازم ہے:شہریوں کے بنیادی حقوق تو آئین کے آرٹیکل175 سے بنی عدالت میں ہی ہوتے ہیں:اٹارنی جنرل نے کہا کہ سویلینز کو اپیل کا حق دینے کے معاملے پر 4 معاملت کو بغور دیکھنا ہوگا،دیکھنا ہوگا کہ سازش میں شامل غیر ملکی افراد اس حق کے اہل ہوں گے یا نہیں،ملٹری کورٹس بھیجے جانے والے سویلین کی چار کیٹیگریز ہیں،پہلی کیٹیگری غیر ملکی سویلین شہریوں کی ہے جن پر آرمی ایکٹ لگا،دوسری کیٹگری اپنے سول شہریوں کی ہے،تیسری کیٹگری ان کی ہے جو دہشتگردی کی کاروواٸیوں میں ملوث ہیں،چوتھی کیٹگری وہ 102 ہیں جن پر ابھی آرمی ایکٹ لگاہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپیل کے حق سے متعلق جی ایچ کیو سے مزید بات کروں گا پیل کے حق سے متعلق جی ایچ کیو سے مزید بات کروں گا اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں آج کوئی بیان نہیں دے سکتا کل تک کیس جاتا ہے تو میں مزید بات کروں گا یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے والے سویلینز پر آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوتا ہے یا نہیں، گزشتہ سماعت پر جسٹس منیب اختر نے کہا تھا کہ حکومت جانے والی ہے تو اٹارنی جنرل کیسے یقین دہانی کرا سکتا ہے، اس وجہ سے براہ راست جی ایچ کیو سے ہدایات لی ہیں،ممکن ہے کہ ایک ہفتے بعد میں اور حکومت یہاں نہ ہوں اس لیے ڈائریکٹ ہدایات لی ہیں ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر مثبت جوابات آرہے ہیں تو آپ دلائل جاری رکھیں، جن عدالتی نظائر کا ذکر کیا ان کو دوبارہ دیکھوں گا کیونکہ کچھ چیزوں پر وضاحت ضروری ہے،*کیس کی سماعت کے وقت کا اعلان بعد میں کریں گے،اٹارنی جنرل نے روسٹرم پر آکر کہا کہ گرفتار افراد کی فیملیز سے ملاقات کروائی گئی، فوجی عدالتوں کے فیصلوں میں مکمل وجوہات کی یقین دہانی ہم کرواچکے ہیں، یہ بھی یقین دہانی کروائی ہے کہ کسی شخص کو سزائے موت یا عمرقید نہ ہو، تمام 102 افراد کے وقار اور احترام کی ضمانت دی جاتی ہے، کسی کے ساتھ برا برتاؤ نہیں ہوا۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ میں نے خود چیک کیا، کسی ملزم کے ساتھ ناروا سلوک نہیں ہوا، ملزمان کو صحت سمیت تمام سہولیات میسر ہیں، ان کے خلاف ناروا سلوک ہوا تو ایکشن ہوگا۔عدالت نے فل کورٹ کی تشکیل پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے فل کورٹ بنانے کی استدعا مسترد کردی۔چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیے کہ اس وقت جو کچھ ہورہا ہے تاریخ سب دیکھ رہی ہے، اپنا کام جاری رکھیں گے کوئی پسند کرے یا نہ کرے، ملک میں کون سا قانون چلے گا یہ فیصلہ عوام کریں گے، ہم نے کام ٹھیک کیا یا نہیں تاریخ پر چھوڑتے ہیں، ہمیں تنقید کی کوئی پرواہ نہیں، ہم صرف اللہ کو جوابدہ ہیں، ستمبر سے پہلے فل کورٹ ممکن نہیں۔

متعلقہ خبریں