اہم خبریں

آئی ایم ایف نکات پر عمل مکمل، 215 ارب کے ٹیکس لگانے کی تجویز مان لی، اسحاق ڈار

اسلام آباد(اے بی این نیوز)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہملک کے حالات کی وجہ سے امپورٹ پر پابندیاں لگائی تھیں،درآمدات پر پابندیاں ہٹا دی گئیں ہیں۔بلاول بھٹو زرداری، اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سمیت تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوںاراکین نے تنقید کے ساتھ اپنی تجویز پیش کیں اس پر شکریہ ادا کرتا ہوںخواتین اراکین نے بھی بجٹ بحث میں بھرپور حصہ لیا۔ارکان اسمبلی کےحج کیلئے خصوصی فلائیٹ کا بندوبست کیا ہے۔کل صبح حج کےلئے فلائیٹ روانہ ہوگی،سپر ٹیکس کی حد 30 کروڑ سے 50 کروڑ تک بڑھا دی ہے،پاکستان کے ٹیکس ریونیو میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے،ٹیکس کا بوجھ چند لاکھ دہندگان پر پڑتا ہے کوشش ہے دائرہ کار بڑھائیں۔کیش نکلوانے پر 0.6 فیصد ٹیکس کا مقصد ڈاکومنٹیشن بڑھانا ہے،بونس شئیرز پر 10 فیصد، ڈیویڈنڈ پر 15 فیصد ٹیکس عائد کیا جارہا ہے،بونس شئیرز پر ٹیکس کمپنیوں نے ادا نہیں کرنا،پرانے پنکھوں اور بلبوں پر ٹیکس یکم جنوری 2024سے نافذ ہوگا،یوٹیلیٹی اسٹورز کو سستی اشیاء کی فراہمی کیلئے رمضان پیکج کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،عام دنوں کیلئے 34 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے کیلئے 466 ارب روپے مختص،بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے،مسلح افواج کیلئے بجٹ میں رکھی گئی رقم وقت پر جاری کی جائیگی،موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے 30 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔قومی بچت سکیموں کیلئے بھی رقم بڑھائی جارہی ہے،پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھا دی گئی ہے،پیٹرولیم لیوی 50 روپے سے بڑھا کر 60 روپے کردی گئی ہے ،خیبرپختونخوا کے ضم شدہ علاقوں میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات 123 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ،ایس ڈی جیز کیلئے اگلے مالی سال کیلئے 90 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے،زراعت کے شعبے کیلئے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ،ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کیلئے 30 ارب روپے رکھے گئے ہیں،حکومت کا ملٹی پنشن سسٹم کو فوری طور پر ختم کرنے کا فیصلہ ،گریڈ 17 سے اوپر والے کوئی بھی سرکاری آفیسر صرف ایک پنشن حاصل کر سکے گا،وفات پانے والے پنشنر کی فیملی کو دس سال تک پنشن دی جائے گی،

متعلقہ خبریں