کرا چی ( اے بی این نیوز ) سمندری طوفان بپر جوائے کل گیارہ بجے کیٹی بندر سے ٹکرائے گا، ہاکس بے پر بھی سمندر بپھر گیا،پانی سڑکپر آگیا،پولیس سڑک توڑ کر پانی نکال رہی ہے،ٹرٹل بیچ پر بھی سڑک زیر آب آگئی، سمند کا پانی رکاوٹوں کو چیرتا ہوا آبادی کی طرف بڑھ رہا ہے،سجاول میں بھی سمندری طوفان کے اثرات رونما ہو نا شروع ہو گئے، نوبشاہ میں تیز ہوا وں کے ساتھ مٹی کا طوفان برپا ہو گیا،
طوفان کی وجہ سے سی ویو سنسان پڑا ہو ا ہے، کیٹی بندر کا سمندر بھی بپھر گیا، بارش شروع ہو گئی، سمندری پانی میں طغیانی کئی ہٹس گر گئے، بدین میں بھی لہریں بپھر گئیں،آئندہ اڑتالیس گھنٹوں تک فوج اور رینجرز کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیدیا گیا، سندھ کے ساحلی علاقوں میں سمند میں شدید طغیانی آگئی،اورماڑہ کے قریب سمندری لہریں آبادی میں داخل ہو گئیں،،کے ٹیبندر گاہ پر وقفے کے ساتھ بارش شروع، کھارو چان ،گھڑا باری میں بارش،شاہ بنر کے مقام پر سینکڑوں افراد پانی میں پھنس گئے،ٹھٹھہ کے علاقے میں وقفے وقفے سے بارش،سمندری طوفان کے باعث شہر قائد میں کلفٹن اور اطراف میں دکانیں، ہوٹلز اور شاپنگ مالز بند کر دئیے گئے،انتظامیہ نے مالز اور دکانیں بند کرنے کی ہدایت ایک دن پہلے دی تھی۔سمندری طوفان کے باعث شہر قائد میں تیز بارش شروع ہوگئیں۔ ہزاروں افراد کی نقل مکانی جاری ہے۔
گڈانی میں بھی لہریں بلند ہو رہی ہیں،سمندری طوفان بپر جوائے کا رخ کراچی سے مڑ کر کیٹی بندر کی جانب ہو گیا، رخ مڑنے سے کراچی اور طوفان کے درمیان فاصلہ بڑھنا شروع ہو گیا، طوفان اب کراچی سے 380 کلومیٹر دور ی پرچلاگیا،اس سے قبل کراچی سے طوفان کا فاصلہ 340 کلومیٹر تھا، طوفان کی رفتار ایک سو چالیس سے لیکر ایک سو پچاس کو میٹر فی گھنٹہ ہے،کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش ،ساحلی علاقوں میں سمندر ی پانی کی سطح میں اضافہ ہو گیا، دو کشتیاں الٹ گئیں،پاک بحریہ نےریسکیو کارروائی کرکے 22 افراد کوبچایا، محکمہ موسمیات نے طوفان کے کراچی سے ٹکرانے کی تردید کر دی ،، طوفان کے گرد ہواؤں کی رفتار170 کلومیٹر فی گھنٹہ ، لہروں کی اونچائی 30 فٹ ، سمندر بپھرنے سے پانی اورماڑہ کے رہائشی علاقے میں داخل ہو گیا ،بارش کا سلسلہ آج سے 16 جون تک کراچی، حیدر آباد، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار، شہید بینظیر آباد اور سانگھڑ میں جاری رہےگا،ٹھٹھہ ،بدین ،جاتی، کھارو چھان اور شاہ بندر کے علاقے خطرے میں ،بدین میں زیروپوائنٹ سمیت ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں کے جھکڑ، ایمر جنسی نافذ،کردی گئی ، گڈانی میں بھی لہریں انتہائی بلند، کھارو چھان کے کئی دیہات زیرِ آب آگئے، بدین کے ساحلی علاقوں میں پانی ماہی گیروں کی بستی کے قریب پہنچ گیا، گڈانی میں جیٹی پرمٹی بھر جانے کی وجہ سے ماہی گیروں کو مشکلات کا سامنا ،مزید موسلا دھار بارشوں کا خدشہ ہے،اب تک 73 ہزار لوگوں کو ریلیف کیمپس منتقل کیا جا چکا، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ریلیف کیمپس میں خوراک اور علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، ساحلی پٹی سے بیسی فیصد آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے،وفاقی وزیر شیر رحمان نے کہا ہے کہ بلاوجہ گھروں سے نہ نکلیں، کل طوفان کی اصل شدت کا پتہ چلے گا، ٹھٹہ، سجاول بدین میں طوفان کے اثرات زیادہ ہو سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے طوفان کو مانیٹرکرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے۔ساحلی علاقوں سے لوگوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔سمندری طوفان کی اصل شدت کا پتہ کل چلے گا۔سمندری طوفان کراچی سے دور ہوتا جارہاہے۔طوفان کل دن 11بجے کے قریب کیٹی بندر سے ٹکرائے گا ۔ٹھٹھہ ،بدین،سجاول اور تھرپارکر زیادہ متاثرہو سکتے ہیں۔عوام سے درخواست ہے متعلقہ اداروں سے تعاون کریں۔















